طلحہ اشرف:جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا فیصل چوک پر 23ویں روز بھی جاری ہے، جس کے باعث فیصل چوک اور مال روڈ کا بڑا حصہ ٹریفک کے لیے بند ہے۔
دھرنے کے باعث مال روڈ سمیت شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ شہریوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مال روڈ بند ہونے کے باعث متبادل راستوں پر بھی ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور کئی مقامات پر ٹریفک سست روی کا شکار ہے۔
جماعت اسلامی نے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
دوسری جانب جسٹس احمد ندیم ارشد نے شہری نسیم اختر کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مال روڈ پر جماعت اسلامی کے دھرنے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ درخواست پر ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرلی۔
دورانِ سماعت جسٹس احمد ندیم ارشد نے ریمارکس دیے کہ مال روڈ پر دھرنے کے باعث بڑی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور لوگوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں کافی وقت لگ رہا ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کس کو نوٹس کیا جائے، جس پر وکیل نے آئی جی پنجاب اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا کی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چوہدری تنویر اختر عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب اور ڈی سی لاہور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی