سٹی42: حماس نے امریکہ کے صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبہ کے جواب میں اپنے مطالبات پیش کر دیئے۔ حماس، اسرائیل اور امریکہ کے مذاکرات مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہو رہے ہیں۔
حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی بنیاد پر غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتی ہے تاہم اس کے کچھ بنیادی مطالبات برقرار ہیں۔
حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کو 2 سال مکمل ہونے پر اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی معاہدے پر مذاکرات کے لیے مصر میں موجود حماس کا وفد ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تمام رکاوٹیں دور کرنے پر کام کر رہا ہے جو غزہ کے عوام کی امنگوں پر پورا اترے۔
فوزی برہوم نے واضح کیا کہ معاہدے میں جنگ کے مکمل خاتمے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلا کی ضمانت شامل ہونی چاہیے ۔ یہ وہ شرائط ہیں جنہیں اسرائیل ماضی میں مسترد کرچکا ہے۔
فوزی برہوم نے مزید کہا کہ حماس ایسے معاہدے کی خواہاں ہے جس میں مستقل اور جامع جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا غزہ پٹی سے مکمل انخلا، انسانی و امدادی سامان کے غیر مشروط داخلے کی اجازت، بے گھر فلسطینیوں کی اپنے علاقوں میں فوری واپسی، قیدیوں کا تبادلہ اور فلسطینی تکنیکی ماہرین پر مشتمل انتظامیہ کی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو شامل ہو۔
انہوں نے اسرائیل کے وزیرِاعظم نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم جنگی مجرم نیتن یاہو کی اُن کوششوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہیں جن کا مقصد موجودہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے پہلے ہونے والے تمام جنگ بندی مذاکرات کو دانستہ طور پر ناکام بنایا تھا‘۔
خیال رہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے پر مذاکرات کے لیے گزشتہ روز مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہو ا تھا۔