ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سموگ تدارک کیس ، عدالت کا سی ٹی او کو ٹریفک کی بہتری کیلئے عملی اقدامات کرنےکاحکم

 سموگ تدارک کیس ، عدالت کا سی ٹی او کو ٹریفک کی بہتری کیلئے عملی اقدامات کرنےکاحکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نےچیف ٹریفک آفیسر سید رحیم شیرازی کو شہر میں ٹریفک کی بہتری کیلئے عملی اقدامات کرنے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا.

جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف ٹریفک آفیسر سید رحیم شیرازی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ عدالت کی ہدایات پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ریت کی ٹرالیوں کے خلاف سخت ایکشن کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ ٹریفک پولیس شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے مہم بھی چلا رہی ہے۔سی ٹی او نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اب تک پچاس ہزار گاڑیوں کو جرمانے کیے جا چکے ہیں جبکہ نو ہزار سے زائد گاڑیوں کو مختلف خلاف ورزیوں پر بند کیا گیا۔ سی ٹی او سید رحیم شیرازی نے سماعت کے بعد سٹی فورٹی ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنی گاڑی کے بھی ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے چھ ای چالان ہوئے۔
سٹی ٹی او سید رحیم شیرازی نے عدالت کو مزید بتایا کہ کاربن فٹ پرنٹ کم کرنے کیلئے الیکٹرک وہیکلز خریدی جا رہی ہیں جبکہ ٹریفک جرمانوں کو مؤثر بنانے کیلئے نئی ترامیم بھی کی جا رہی ہیں۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی بنیادی ذمہ داری محکمہ ماحولیات پر عائد ہوتی ہے تاہم ٹریفک پولیس اور محکمہ ماحولیات کے درمیان مستقل تعاون ضروری ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نظر نہیں آرہی اور ٹریفک پولیس اہلکاروں کو فیلڈ میں متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ کہ ون وے کی خلاف ورزی اور غلط موڑ مڑنے والی گاڑیوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہو رہی جبکہ کینال روڈ پر ون وے خلاف ورزی کے باعث روزانہ حادثات پیش آتے ہیں۔ جسٹس شاہد کریم نے سی ٹی او کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “آپ کا کام فیلڈ ورک ہے، آپ کو خود بھی بغیر پروٹوکول مختلف اوقات میں ٹریفک صورتحال چیک کرنی چاہیے”۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ “جرمانوں کے بجائے ٹریفک مینجمنٹ پر زیادہ فوکس ہونا چاہیے”۔ انہوں نے کہا کہ شہر کا روڈ اسٹرکچر مسائل کا شکار ہے تاہم ٹریفک پولیس اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کرکے مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔، سماعت کے بعد سی ٹی او سید رحیم شیرازی نے سٹی فورٹی ٹو کو شہر میں ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے کئے جانے والے اقدامات بارے میں بتایا۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر ٹریفک کی بہتری کیلئے اقدامات کیے گئے تاہم بعض مقامات پر ٹریفک کے عدم تعاون کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوسکے۔سماعت کے دوران لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ڈمپنگ سائٹ پر لگنے والی آگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جس پر عدالت نے متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کرکے آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایل ڈبلیو ایم سی کو خاطر خواہ فنڈز دیئے گئے ہیں جنہیں ڈمپنگ سائٹ کی بہتری پر خرچ ہونا چاہیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی ۔

Ansa Awais

Content Writer