سٹی42: "کچھ جگہیں کبھی فروخت نہیں ہوتیں"، کینیڈاکے وزیراعظم کارنی نے یہ جواب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت دیا جب ٹرمپ نے اپنے گھر آئے ہوئے مہمان کینیڈین صدر کو ایک بار پھر کہا کہ وہ کینیڈا کو امریکہ میں ضم کرنا چاہتے ہیں۔
اس بے ہودہ فرمائش پر کینیڈا کے عوام امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے نفرت کرنے لگے ہیں، اس فرمائش کو لے کر کینیڈا کے شہریوں نے لبرل پارٹی کے امیدواروں کی گزشتہ خطائین معاف کر کے انہین پارلیمنٹ مین ایک بار پھر اکثریت دی اور کارنی کو وزیراعظم بنوایا۔ یہ کارنی آج وائٹ ہاؤس مین صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کینیدا پر تھوپے ہوئے اضافی ٹیرفس کے بوجھ پر مذاکرات کرنے کے لئے آئے تو ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ بیان داغ دیا کہ وہ اب بھی کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں سٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔
کینیڈاکے پرائم منسٹر کارنی نے آج وائٹ ہاؤس میں کہا، میں نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران کینیڈا کے "مالکان" سے ملاقات کی، انہوں نے مزید کہا کہ "یہ (کینیڈا) کبھی فروخت نہیں ہو گا"۔
تاہم، کارنی نے کہا، شراکت داری کے اندر "موقع" ہے اور جو دونوں ممالک مل کر تعمیر کر سکتے ہیں۔
آج کارنی کے وائٹ ہاؤس مین طے شدہ دورہ کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی ناپسندیدہ قرار پا چکی فرمائش بے ضرورت دہرائی کہ وہ کینیڈا کو امریکہ کی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ '51 ویں ریاست' کے خطرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اس ہرزہ سرائی کے ساتھ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ کینیڈین عوام کی بہت عزت کرتے ہیں، ٹرمپ نے کینیڈا سے رشتہ جوڑتے ہوئے کہا، میری ماں کے خاندان کے افراد کینیڈا میں رہتے تھے۔
"کینیڈا ایک بہت ہی خاص جگہ ہے،" ترمپ نے اپنی دانست میں کینیڈین عوام کی زخمی انا پر مکھن لگایا۔
اس کے ساتھ انہوں نے ایک بار پھر وار کیا ور کہا، وہ کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کے لیے اپنے بیانات پر قائم ہیں۔
ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں، ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی ریاست بننے کا مطلب ہے آزاد فوج اور کینیڈین عوام کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیکس میں کٹوتی۔
ٹرمپ کو یہ وہم ہے کہ امریکہ کینیڈا کا "تحفظ" کر رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان ممالک کی "شادی" "شاندار" ہوگی۔