حسن علی : سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میں صرف ڈیوٹی کر رہا ہوں ,کسی کے خلاف نہیں ہوں،انہوں نے واضح کیا کہ "یہ ایوان کوئی احتجاج گاہ نہیں ہے"، اور ارکان اسمبلی کو نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کا پیغام دیا۔
پریس کانفرنس میں سیکرٹری جنرل پنجاب اسمبلی چودھری عامر حبیب موجود تھے۔
ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ بطور سپیکر ڈیوٹی سنبھالی تو کوشش کی اپنے کردار کو پوری ایمانداری سے نبھائوں گا،معطلی کے احکامات آنے سے پہلے میں اپنا موقف آپکے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، آج تک ایسی کوئی وزیر خزانہ کی تقریر نہیں جس میں بجٹ کی کتابوں کو پھاڑنا ہنگامہ آرائی نہ ہو،پارلیمنٹ کوئی مردہ خانہ نہیں ہوتے کہ کوئی آواز بلند ہی نہ ہو،اپوزیشن کے احتجاج کی بھی حدودوقیود ہوتی ہیں،مجھے درس دینے کےلئے جو کھڑے ہوئے تو کسی نے میری بات بھی سنی؟ ۔
اُن نے کہا کہ ڈیڑھ سال میں اپوزیشن کی ہر بات کو ترجیح دی حقوق کی نگہبانی کی ہے،اسمبلی کی کارروائی کو کوائف کے مطابق چلائیں گے تو حلف کی بھی کوئی اہمیت ہے،پی ٹی آئی کی ساری جمہوریت ن لیگ کے خلاف ہے، میں کسی کیخلاف نہیں، اسمبلی کی حرمت کی حفاظت کررہا ہوں،میں تحریک انصاف نہیں ہوں،بات سمجھتا ہوں، سیاسی آدمی ہوں، میری بنیاد کسی کی نااہلی پر نہیں کھڑی ہے۔
سپیکرپنجاب نے مزید کہا کہ باسٹھ تریسٹھ منتخب نمائندوں کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار ہے، میرے پاس ایک خاتون رکن کی ہراسمنٹ کی درخواست ہے،اس کی اجازت نہیں دوں گا،اظہارقانون میں لکھا ہے لیکن احتجاج قانون میں نہیں لکھاہوا،آپ کو یہاں منتخب کرکے لوگ گالیاں نکالنے کیلئے بھیجتے ہیں؟اس شورشرابے کی وجہ سے کیا کسی کو ریلیف مل سکے گا،یہاں اگر بات ہی نہیں کرسکتے تو اس ایوان کا کیا فائدہ ہے؟کسی کو ریڈ لائن کہہ کر اگر اس ایوان کو چلنے ہی نہیں دینا تو پھر کیا فائدہ اس کا؟