ملک اشرف : لاہور کینال پر فلوٹنگ (تیرتے) ریسٹورنٹس کے منصوبے کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
آئینی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں ڈاکٹر اعجاز انور سمیت دیگر شہریوں نے دائر کی، جس میں پنجاب حکومت، لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) سمیت متعدد متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کینال کو تجارتی استعمال میں لانا نہ صرف ماحولیاتی قوانین اور ورثے کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے کینال کے قدرتی بہاؤ اور ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ لاہور کینال شہر کا تاریخی اور ثقافتی ورثہ ہے، اور فلوٹنگ ریسٹورنٹس کی تعمیر سے نہ صرف اس کے قدرتی حسن میں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ شہریوں نے ان ریسٹورنٹس کی وجہ سے کناروں پر غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات کے امکانات پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے،شہریوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہفلوٹنگ ریسٹورنٹس کے منصوبے کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے،اور کیس کے حتمی فیصلے تک تعمیراتی کام کو روکنے کا حکم جاری کیا جائے۔