ویب ڈیسک: امریکا اور بھارت کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت بھارت امریکی صنعتی اشیا پر عائد ٹیرف کم یا مکمل طور پر ختم کرے گا، جبکہ امریکا بھارت پر 18 فیصد ٹیرف نافذ کرے گا۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکا بعض طیاروں اور ایئرکرافٹ پارٹس پر عائد ٹیرف بھی ختم کرے گا۔ اس کے علاوہ بھارت امریکی مارکیٹ تک رسائی میں تاخیر کا باعث بننے والے لائسنسنگ طریقہ کار کو ختم کرنے پر بھی آمادہ ہو گیا ہے، جس سے امریکی زرعی اور فوڈ مصنوعات کو بھارتی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے گی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق بھارت آئندہ پانچ سالوں کے دوران امریکا سے 500 ارب ڈالر مالیت کی انرجی اور ٹیکنالوجی مصنوعات خریدے گا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل بھارت پر عائد ٹیرف کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ٹیرف میں کمی کے بدلے بھارت روس سے تیل کی خریداری بند کرے گا۔ امریکا اور بھارت کے درمیان اس تجارتی معاہدے پر آئندہ ماہ باضابطہ دستخط متوقع ہیں۔