سٹی42:یروشلم میں اسرائیل کے وزیراعظم کا دفتر اور یرغمال خاندانوں کا فورم دونوں اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ غزہ میں حماس کی قید سے (آج) ہفتہ کے روز رہا کیے جانے والے تین یرغمالی ایلی شارابی، یا لیوی اور اوہد بن امی ہیں۔ حماس اسرائیل کے تین یرغمالی مردوں کو آج رہا کرے گی.
52 سالہ شارابی کو کبٹز بیری سے اس وقت اغوا کیا گیا جب حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر دہشتگردحملہ کیا تھا۔ شارابی کی بیوی اور بیٹیوں کو ان کے گھر کے محفوظ کمرے میں قتل کر دیا گیا اور شارابی اور اس کے بھائی یوسی کو اسیر کر لیا گیا تھا۔ یوسی بعد میں حماس کی حراست مین ہی مارے گئے۔ یوسی کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے اور حماس نے ان کی لاش کو یرغملا بنا کر اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔
34 سالہ لیوی کو 7 اکتوبر کو کبتز ریئم کے قریب سپرنووا ریو سے اغوا کیا گیا تھا۔ ان کی اہلیہ ایناو کو قتل کر دیا گیا تھا، اور ان کا، اب تین سال کا ہو چکا، بیٹا الموگ تب سے اپنے دادا دادی کے ساتھ رہ رہا ہے۔
56 سالہ یرغمالی بین امی کو بھیسات اکتوبر 2023 کو حماس کے کارکنوں نے بیری سے اغوا کیا تھا۔ ان کی اہلیہ راز بن امی کو بھی اغوا کر لیا گیا تھا۔ رازبن امی کو خاتون سویلین ہونے کے ناطے نومبر 2023 میں ایک ہفتے کی جنگ بندی کے دوران فلسطینی قیدیوں کے عوض رہا کر دیا گیا تھا۔ بین امی کی رہائی آج اغوا کے سولہ ماہ بعد اس بنا پر ہو رہی ہے کہ ان کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے۔ ہوسٹیجز ڈیل کے پہلے مرحلہ مین حماس نے اپنی قید میں موجود زیادہ عمر کے مردوں اور تمام عورتوں کو باری باری رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم بعد مین پتہ چلا کہ جن 33 کر رہا کرنے پر اتفاق کیا گیا، ان میں سے 8 اب زندہ نہین ہیں۔ ان میں کم از کم ایک خاتون سویلین شامل ہیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی سات اکتوبر کو اغوا ہوئے تھے اور ان کے شوہر کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔ شوہر کو تو رہائی مل چکی ہے لیکن خاتون اور ان کے بچوں کا ہنوز کچھ پتہ نہیں۔
"ہمارا فرض اور اخلاقی حق ہے کہ ہم اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کو گھر لے آئیں۔ یرغمالیوں کے فورم نے ایک بیان میں کہا کہ ہم کسی بھی مرحلے پر اس وقت تک ہار نہیں مانیں گے اور نہ ہی رکیں گے جب تک کہ تمام یرغمالی موجودہ معاہدے کے تحت گھر واپس نہیں آتے - آخری حد تک - بحالی کے لیے زندہ اور میت کو مناسب تدفین کے لیے گھر واپس لایا جانا چاہئے۔