سٹی42:امریکہ کے صدر "امریکہ فرسٹ" اور "امریکہ کو عظیم بنانے" کے نعرے لگاتے ہوئے امریکہ کے ہی اداروں کو ڈبونے پر کمربستہ ہو گئے۔ ٹرمپ کے عتاب کا حالیہ شکار امریکہ کا دنیا میں چہرہ سمجھا جانے والا ادارہ یو ایس ایڈ (US-Aid) ہے؛ پہلے ٹرمپ نے اس ادارہ کا سٹاف کم کرنے کی دھمکیاں دیں، اس کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے دستِ راست ایلون مسک بھی یو ایس ایڈ پر چڑھ دوڑے، اب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یو ایس ایڈ پر تنقید کی ہے اور اس ادارہ کو بند ہی کر دینے کا "مطالبہ" کر دیا ہے.
بین الاقوامی میڈیا کا فیڈ بیک یہ ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے یو ایس ایڈ کی فنڈنگ منجمد ہونے کے بعد دنیا کے کئی علاقوں میں یو ایس ایڈ کی مدد پر انحصار کرنے والے لوگوں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کو "بند" کرنے کا مطالبہ ان اطلاعات کے درمیان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ اس امدادی ایجنسی کے چند سو عملے کے ارکان کو چھوڑ کر باقی سب کو نوکری سے نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یو ایس ایڈ پر یہ حملے ٹرمپ کی جانب سے حکومتی افرادی قوت کو کم کرنے کی حکمتِ عملی اور ایک ایگزیکٹو آرڈر کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اس ایگزیکٹو آرڈر سے ٹرمپ نے امریکی غیر ملکی امداد پر روک لگا دی تھی۔ یہ امداد یو ایس ایڈ کے ذریعہ دنیا کے کئی خِطوں میں کئی ملکوں کی انتہائی ضرورت مند کمیونٹیز کو فراہم کی جا رہی تھی۔
اس دوران ہی
ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں جاپانی وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا کی میزبانی کریں گے، ایشیبا نے دورے سے قبل کہا تھا کہ وہ امریکی صدر کے ساتھ "اعتماد کا ذاتی تعلق" قائم کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے پانامہ کے صدر کے ساتھ بات کرنے کی بھی توقع ہے۔ یہ بات چیت ٹرمپ کی طرف سے تزویراتی اہمیت کی حامل سمندری گزرگاہ پاناما کینال پر دوبارہ زبردستی کنٹرول حاصل کرنے کے اعلانات کے باعث بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان ہو گی۔ ٹرمپ پاناما کینال سے امریکی جہازوں کے گزرنے پر عائد ٹول ٹیکس ختم کروانے مین دلچسپی رکھتے ہیں اور پاناما کی معیشت کا انحصار ہی پاناما کینال سے ہونے والی ٹول تیکس آمدن پر ہے۔ پاناما کے صدر امریکہ کے صدر کی اس مفت بری کو اپنی معیشت کے ساتھ اپنی خود مختاری کے بھی خلاف سمجھتے ہیں۔