ویب ڈیسک:امریکا کی ڈیجیٹل ادائیگی کمپنی ’’ پے پال‘‘ نے اپنے عالمی تنظیم نو پروگرام کے تحت امریکہ میں بھی ملازمتوں میں بڑی کٹوتی شروع کردی ۔ بھارت میں ملازمین کی تخفیف کے بعد اب کمپنی کے امریکہ میں واقع سان جوز ہیڈکوارٹرز کے سینئر اور زیادہ تنخواہ لینے والے ملازمین بھی اس اقدام سے متاثر ہوئے ہیں۔ پے پال نے اس سال اپنی عالمی افرادی قوت میں تقریباً 20فیصد کمی کا منصوبہ بنایا ہے
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں واقع سان جوز ہیڈکوارٹرز میں251 ملازمتیں ختم کی جارہی ہیں، جن میں سینئر ڈائریکٹرز،منیجرز اور بڑی تعداد میں انجینئرنگ سے متعلق عہدے شامل ہیں۔ پے پال سے فارغ کئے جانیوالوں کی حالیہ لہر میں امریکا میں تقریباً 50ڈائریکٹرز، 40ے زائد سینئر منیجرز اور 100 سے زیادہ انجینئرنگ سے متعلق عہدے شامل ہیں۔ ان میں سینئر سافٹ ویئر انجینئرز اور انجینئرنگ منیجرز کے علاوہ پروڈکٹ مینجمنٹ سے وابستہ عہدے بھی متاثر ہوں گے۔ یہ ملازمین میں یہ کٹوتی 30اکتوبر 2026سے مؤثر ہونے کی اطلاع ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پے پال نے اس سال اپنی عالمی افرادی قوت میں تقریباً 20فیصد کمی کا منصوبہ بنایا ہے۔2025میں کمپنی کے ملازمین کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 38 ہزار تھی، جس کے حساب سے یہ کمی تقریباً4 ہزار 760 ملازمتوں کے برابر بنتی ہے۔ کمپنی کا مقصد تنظیمی ڈھانچے کو آسان بنانا، انتظامی سطحوں کو کم کرنا اور آپریشنل اخراجات میں کمی لانا ہے۔
واضح رہےکہ امریکا سے پہلے پے پال نے بھارت میں بھی اپنے ملازمین کی تعداد کم کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق بھارت میں تقریباً 220 ملازمتیں ختم کی گئی ہیں جبکہ دیگر رپورٹس میں بھارت کے مختلف دفاتر میں مجموعی طور پر تقریباً 600 ملازمین کے متاثر ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ کمپنی نے ان تبدیلیوں کو اپنے پہلے سے اعلان کردہ ملٹی ایئر ٹرانسفورمیشن پلان کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد عالمی آپریشنز کو آسان بنانا، کارکردگی بہتر کرنا اور طویل مدتی ترقی کے لئے کمپنی کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ پے پال کمپنی نے اخراجات کم کرنے کیلئےرواں سال تقریباً 400ملین ڈالر کی بچت کا ہدف رکھا ہے، کمپنی تنظیمی سطحوں کو کم کرنے کیساتھ اے آئی اور آٹومیشن کے استعمال کو بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ پے پال کی یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی ٹیکنالوجی اور فن ٹیک صنعت میں بڑے پیمانے پر ’لے آفس‘جاری ہیں۔ کمپنیاں بڑھتے اخراجات، مسابقت، کمزور کاروباری کارکردگی اور اے آئی اور آٹومیشن کے بڑھتے استعمال کے باعث اپنے روایتی افرادی قوت کے ڈھانچے پر نظرثانی کررہی ہیں۔