سٹی42: فریڈرک مزر جرمنی کے نئے چانسلر بن گئے۔
جرمنی ک کی پارلیمنٹ میں ملک کے انتظامی سربراہ چانسلر کے انتخاب کے لئے الیکشن آج ہوئے۔ پہلے مرحلہ میں فریڈرک مرز کو مطلوبہ تعداد مین ووٹ نہیں ملے تھے۔ دوسری مرتبہ الیکشن ہوئے تو ووٹنگ میں فریڈرک مزر چانسلر منتخب ہو گئے۔
دارالحکومت برلن میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں جسے جرمن زبان مین بنڈسٹاگ کہا جاتا ہے، نئے جرمن چانسلر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں سینٹر لیفٹ سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر مزر کے نئے اتحاد کو حیران کن شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
آج منگل کے روز ووٹنگ کے پہلے دور میں پارلیمانی حمایت حاصل کرنے میں فریڈرک میرز کی ناکامی دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی کے لی اس نوعیت کا پہلا واقعہ تھی۔
فریڈرک مزر کی پارٹی نے فروری میں ہونے والے پارلیمنٹ کے الیکشن سے پہلے CDU/CSU اتحاد ن بنایا تھا۔ اس اتحاد کو منقسم ووٹ کے سبب پارلیمنٹ مین اکثریت نہین ملی تھی۔ اس صورتحال مین سی ایس یو۔ سی ڈی یو الائنس نے حکومت بنانے کے لئے سینٹر لیفٹ سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ اتحاد کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدہ کے بعد آج ووٹنگ ہوئی تو پہلے مرحلہ میں مزر کو مطلوبہ ووٹ نہین ملے تاہم دوسرے مرحلہ مین وہ سہولت کے ساتھ منتخب ہو گئے۔
نئے چانسلر کا انتخاب اور استحکام
جرمنی میں معاشی ترقی کی سست رفتار اور ورکنگ کلاس کو درپیش مسائل کی وجہ سے کچھ عرسہ سے معاشی اور سیاسی مسائل بڑھتے جا رہے تھے۔ ان مسائل کے درمیان ہی جرمنی کے سابق چانسلر نے پارلیمنٹ توڑ کر نئے الیکشن کروانے کا اعلان کیا تھا۔ اس الیکشن میں ان کی اپنی سنٹر لیفٹ پارٹی کی کامیابی کا امکان نہین تھا تاہم جب الیکشن ہوئے تو گزشتہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن پارٹی بھی اتحاد بنانے کے باوجود پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔
قدامت پسند رہنما، جو پہلے راؤنڈ کے بے مثال دھچکے سے کمزور ہو چکے ہیں، اب دوسرے مرحلہ میں انہوں نے ڈرامائی دوسرے راؤنڈ میں 325 ووٹ حاصل کیے – یہ جیتنے کے لیے درکار 316 ووٹوں سے بالکل اوپر ہیں اور مزر کو نئی حکومت بنانے کے لئے درکار اعتماد دینے کے لئے کافی ہیں۔
69 سالہ اب قدامت پسند لیڈر زندگی میں پہلی مرتبہ قدامت پسند بلاک اور سینٹر لیفٹ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) کے درمیان ایک نازک اتحاد کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ اتحاد دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے پتلی پارلیمانی اکثریت حاصل کرے گا، جس میں اس تین جماعتی اتحاد کی اب صرف 52 فیصد نشستیں ہیں۔