ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

` یمن کے دارالھکومت صنعا میں ائیرپورٹ پر حملے کی اسرائیلی وارننگ

Sana Airport, Israel air strikes, City42, Hadidah port, Yemen
کیپشن: یسرائیل کی فوج نے آج سوشل پلیٹ فارم ایکس پر صنعا کا نقشہ پوسٹ کیا جس مین صنعا انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو نشان زد کر کے پبلک کو اس علاقہ سے دور چکے جانے کے لئے کہا گیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ صنعا ائیرپورٹ سے ملحق فوجی ہوائی اڈاے کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی42: یمن میں حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ بندرگاہ حدیدہ پر بڑے پیمانہ پر بمباری کے ایک دن بعد  اسرائیلی فوج نے دارالحکومت صنعا کا ائیرپورٹ فوری خالی کرنے کی وارننگ  دے دی۔ اس وارننگ کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کی ائیر فورس آج ہی کسی وقت صنعا ائیرپورٹ سے ملحق جنگی مقاصد کے لئے استعمال کی جانے والی ائیرپورٹ تنصیبات پر حملہ کرے گی۔

اسرائیل پر اتوار کے روز تل ابیب کے بن گوریوں ائیرپورٹ پر حوثی باغیوں کا فائر کیا ہوا میزائل گرنے کے بعد یمن میں کل سے جنگی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ اس سال کے دوران یہ اسرائیل کی یمن میں حوثیوں کی تنصیبات پر پہلی جنگی کارروائی ہے۔

آج منگل کے روز  اسرائیلی فوج کے جاری کردہ نقشے میں صنعا ائیرپورٹ کو سرخ رنگ سے نشان زد کیا گیا ہے۔
تل ابیب  میں اسرائیل کے میڈیا نے کنفرم کیا کہ اسرائیلی فوج نے یمنی دارالحکومت صنعا کا بین الاقوامی ائیرپورٹ فوری خالی کرنے کی وارننگ جاری کردی ہے۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر  اسرائیلی فوج کے ترجمان کے بیان کے ساتھ صنعا کا نقشہ بھی دیا گیا ہے جس میں ائیر پورٹ کو سرخ رنگ سے نشان زد کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے نشان زد علاقے میں موجود افراد کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر صنعا ائیرپورٹ کی حدود سے نکل جائیں اور اپنے اطراف موجود افراد کو بھی ائیرپورٹ خالی کرنے کو کہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر لوگ ائیر پورٹ سے نہ نکلے تو وہ خود کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

گزشتہ روز یمن کی بندرگاہ حدیدہ  مین حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر  20 اسرائیلی طیاروں کی بمباری میں کم از کم 21 افراد  ہلاک ہوگئے تھے۔

حوثی باغیوں کے بین گوریون ہوائی اڈے پر میزائل حملے کے بعد 20 اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے یمن میں حملہ کیا۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی معیشت اور فوج کو ایک ’دھچکا‘  لگانے کے لئے حدیدہ بندرگاہ، قریبی کنکریٹ فیکٹری پر 50 ٹن  بارود گرایا گیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ حملہ امریکا کے ساتھ مل کر کیا گیا۔
فوج کے مطابق، آئی اے ایف کے تقریباً 20 لڑاکا طیاروں کے ذریعے کیے گئے حملوں میں یمن کے ساحل کے ساتھ ساتھ حوثیوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں حدیدہ بندرگاہ اور اسرائیل سے تقریباً 2000 کلومیٹر کے فاصلے پر قریبی شہر بجل کے قریب ایک کنکریٹ فیکٹری بھی شامل ہے۔

فوج نے کہا کہ جیٹ طیاروں کے حوثی اہداف پر  حملوں کی تصاویر شائع کیں جن میں جیٹ طیاروں کو ٹیک آف کی تیاری کرتے دکھایا گیا۔ آئی اے ایف کے ایندھن بھرنے والے اور جاسوس طیاروں نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔

اسرائیل کی دفاعی افواج نے کہا کہ حدیدہ بندرگاہ کو حوثی "ایرانی ہتھیاروں، فوجی ضروریات کے لیے سازوسامان اور دیگر دہشت گردی کے مقاصد کی منتقلی کے لیے استعمال کرتے تھے۔"

آئی ڈی ایف نے کہا کہ باجل کنکریٹ فیکٹری "حوثی دہشت گرد حکومت کے لیے ایک اہم اقتصادی وسائل کے طور پر کام کرتی ہے اور اسے سرنگوں اور فوجی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،" آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ حملے "حکومت کی معیشت اور اس کی فوجی تعمیر کے لیے ایک دھچکا ہیں۔"

آئی ڈی ایف نے  کہا، "یہ حملہ حوثی دہشت گرد حکومت کی طرف سے ریاست اسرائیل کے خلاف بار بار کیے جانے والے حملوں کے جواب میں کیا گیا، جس کے دوران زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل اور UAVs اسرائیلی سرزمین اور اس کے شہریوں کی طرف داغے گئے"۔

یمن میں جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل کا یہ چھٹا اور جنوری کے بعد پہلا حملہ تھا۔ کئی ماہ قبل امریکہ کی جانب سے ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے خلاف ایک بڑی فضائی مہم شروع کرنے کے بعد IDF نے اسرائیل پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون فائر کا جواب دینا بند کر دیا تھا۔

اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ یہ حملے امریکا کے ساتھ مل کر کیے گئے تھے، لیکن یہ مشترکہ کارروائی نہیں تھی۔

آن لائن پوسٹ کی گئی فوٹیج میں مبینہ طور پر کنکریٹ فیکٹری میں ایک بڑی آگ کو دکھایا گیا، جہاں حوثیوں کے زیر انتظام وزارت صحت نے کم از کم 21 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔

وزارت دفاع اور وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ تصاویر میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع اسرائیل کاٹز اور IDF کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کو IAF کے زیر زمین ہیڈکوارٹر میں افسران کے ساتھ مل کر تل ابیب میں IDF کے کریا بیس میں پیر کے آپریشن کی نگرانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

آئی اے ایف کے سربراہ میجر جنرل ٹومر بار، جن کی تصویر نہیں تھی، تھوڑی دیر بعد افسران کے ساتھ شامل ہو گئے، کیونکہ وہ ملحقہ کمانڈ پوسٹ سے آپریشن کی کمانڈ کر رہے تھے۔