ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال کے باعث امریکی معیشت کو ممکنہ دھچکے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بڑے خلیجی ممالک امریکا میں اپنی سرمایہ کاری کے مستقبل پر غور کر رہے ہیں۔
برطانوی اخبارفنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کئی خلیجی ریاستیں امریکا میں موجود اپنی بڑی سرمایہ کاری نکالنے یا اس میں کمی کرنے کے آپشنز کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ان ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں توانائی کی سپلائی متاثر ہونے اور تیل کی برآمدات میں ممکنہ رکاوٹ کے باعث خلیجی معیشتوں کو بجٹ خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ ممالک بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے اپنے منصوبوں اور وعدوں پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا میں خلیجی ممالک کی مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 2 ہزار ارب ڈالر تک پہنچتی ہے، جو بنیادی طور پر توانائی، رئیل اسٹیٹ، ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبوں میں کی گئی ہے۔
اگر ان سرمایہ کاریوں میں کمی آتی ہے تو اس کے اثرات امریکی معیشت اور مالیاتی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری میں ممکنہ کمی کی صورت میں امریکی صدر ٹرمپ کی حکومت پر معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ خلیجی سرمایہ کاری امریکا کی معیشت اور بڑے منصوبوں میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کے خودمختار ویلتھ فنڈز، جن میں سینکڑوں ارب ڈالر کے اثاثے شامل ہیں، عالمی مالیاتی منڈیوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اس لیے کسی بھی بڑے سرمایہ کاری فیصلے کے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔