ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سیلاب سے پہلے حفاظتی حصار،وزیراعلیٰ مریم نواز کا 3ماہ کے اندر تمام فلڈ زونز خالی کر انے کا حکم

سیلاب سے پہلے حفاظتی حصار،وزیراعلیٰ مریم نواز کا 3ماہ کے اندر تمام فلڈ زونز خالی کر انے کا حکم
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راؤ دلشاد: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلابی تباہ کاریوں سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے فلڈ زونز کو خالی کرانے اور آبی گزرگاہوں سے تجاوزات ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ کی زیر صدارت پوسٹ فلڈ انتظامات کے جائزے کیلئے خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ محکموں کے حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی کہ تین ماہ کے اندر تمام فلڈ زونز کو واگزار کرایا جائے تاکہ مستقبل میں سیلابی تباہی سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبی راستوں میں غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کو کسی قسم کی سرکاری امداد نہیں دی جائے گی اور دریاؤں کی گزرگاہوں میں تعمیرات پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ نے آبی گزرگاہوں میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کیلئے موثر مانیٹرنگ کا نظام قائم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں 17 مقامات پر منی ڈیمز بنانے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا جبکہ چنیوٹ میں بند تعمیر کرنے کیلئے فیزیبلٹی رپورٹ مکمل ہونے پر اصولی منظوری بھی دے دی گئی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ دریا کے پیٹ میں تعمیرات کا باب ہمیشہ کیلئے بند کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انفلیٹ ایبل ڈیم ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی ہدایت بھی جاری کی جبکہ کالا باغ اور سدھنائی کے مقامات پر آبی ذخائر کی استعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں پی ڈی ایم اے کی تنظیم نو کرتے ہوئے آٹھ نئے ونگز قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز، ریجنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ مراکز اور ویئر ہاؤسز کے قیام کی منظوری دی گئی۔

حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ رابطہ سڑکوں اور راستوں کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں 563 کلومیٹر طویل 186 سڑکیں، 446 پلیاں اور ایک پل بحال کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں ریسکیو 1122 کو فلڈ آپریشن کیلئے جدید آلات فراہم کرنے کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت 10 لینڈنگ کرافٹ، بوٹ کیریئر ٹرکس، نیویگیشن سسٹم، کمیونیکیشن آلات اور فلائنگ لائف بوائے جیکٹس سمیت دیگر ضروری سامان خریدا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں آبپاشی کے 183 منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ 298 ڈرینز اور سیلابی نالوں اور 67 ڈرینج سسٹمز کی ڈی سلٹنگ بھی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق رواں سال معمول سے تقریباً 28 فیصد زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ کو سیلاب سے نمٹنے کیلئے شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم حکمت عملی پر مبنی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔