ویب ڈیسک: امریکی حکام نے افغانستان سے امریکی فواج کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ پر ایک خودکش حملے میں فوجی اہلکاروں سمیت عام افغان شہریوں کو نشانہ بنانے والا گرفتار داعش کے دہشت گرد شریف اللہ کو ورجینیا کی عدالت میں پیش کردیا ۔
امریکی حکام کے مطابق دہشت گرد کو ابتدائی سماعت کیلئے ورجینیا کی عدالت میں پیش گیا گیا، کیس کی تفصیلی سماعت پیر کو ہوگی، شریف اللہ نے جج سے بات کرنے کیلئے مترجم کی خدمات لیں جبکہ عدالت میں دوران سماعت اٹارنی نے موقف اپنایا کہ ملزم شریف اللہ کو امریکی حکومت کی جانب سے اس مقدمے میں وکیل کی خدمات بھی فراہم کی جائیں۔
ڈائریکٹرایف بی آئی کیش پٹیل نے ایکس پربیان میں کہا کہ گرفتاردہشتگرد شریف اللہ امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث ہے، امریکی انصاف کا سامنا کرنے کیلئے ملزم پہنچ چکا ہے، ہمارے شراکت داروں اور ایجنسی کے بہادر اہلکاروں کا شکریہ۔
.jpg)
یاد رہے کہ 26 اگست 2021 کو کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایبی گیٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں 13 امریکی فوجی اور تقریباً 170 افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔ملزم محمد شریف اللہ عرف جعفر اس بم دھماکے میں ملوث تھے۔
ملزم شریف اللہ کو جب جیل سے لایا گیا تو انہوں نے نیلے رنگ کا قیدیوں والا لباس پہن رکھا تھا۔ عدالت نے سماعت کے دوران ملزم شریف اللہ کو بتایا کہ اگر اس پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کو مدد فراہم کرنے کی سازش کا الزام ثابت ہوا تو اسے جیل میں ممکنہ طور پر عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق شریف اللہ 2016 میں داعش خراسان میں شامل ہوا اور کابل سمیت افغانستان میں کم از کم 21 حملوں میں ملوث ایک بڑی ٹیم کا حصہ تھا اور اس نے تنظیم کے رہنما شہاب المہاجر کے قریبی معاون کی حیثیت سے بھی کام کیا۔
ذرائع کے مطابق شریف اللہ کو ستمبر 2019 میں افغانستان کے قومی سلامتی ڈائریکٹوریٹ نے گرفتار کیا تھا۔ 15 اگست 2021 کو طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے کے دوران وہ جیل سے فرار ہو گیا تھا۔شریف اللہ کو تقریباً 10روز قبل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں اس ملزم کی گرفتاری میں تعاون اور مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔