اساتذہ بھی بے نظیر انکم سپورٹ سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل

اساتذہ بھی بے نظیر انکم سپورٹ سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل

( جنید ریاض ) سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور ان کے اہلخانہ کی جانب سے بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقم وصول کرنے کا انکشاف، محکمہ تعلیم نے ڈی پی آئی ایلیمنٹری پنجاب کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کے مختلف سرکاری سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ اور ان کے اہلخانہ کی جانب سے بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقم وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ تعلیم نے ڈی پی آئی ایلیمنٹری پنجاب کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

کمیٹی میں رضوانہ خلیل پرنسپل گورنمنٹ کنیئرڈ گرلز ہائی سکول لاہور اور ایڈیشنل ڈی پی آئی ایلیمنٹری پنجاب ممبران ہوں گے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے پنجاب بھر کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کو مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

کمیٹی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقم وصول کرنیوالے اساتذہ کیخلاف کارروائی کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق رحیم یار خان اور مظفرگڑھ کے اساتذہ کے خلاف پہلے سے محکمہ تعلیم نے کارروائی کا آغاز کررکھا ہے۔

یاد رہےچیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے انکشاف کیا تھا کہ ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین بھی وظیفہ وصول کرنے والوں میں شامل تھے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریلویز، پاکستان پوسٹ اور بی آئی ایس پی کے ملازمین ان میں شامل تھے، وفاقی اور صوبائی محکموں کے ملازمین بھی اس وظیفے وصول کرنے والوں میں شامل تھے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ ان تمام سرکاری ملازمین کی فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں، صوبائی چیف سیکرٹریز کو ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے حکم کے مطابق ان سرکاری ملازمین کے نام بہت جلد عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔