ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دوسرا مون سون اسپیل: دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا خدشہ، الرٹ جاری

دوسرا مون سون اسپیل: دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا خدشہ، الرٹ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کیا ہے کہ دوسرے مون سون اسپیل اور مغربی ہواؤں کے سلسلے کے باعث 06 سے 10 جولائی کے دوران شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، متوقع بارشوں کے باعث پہاڑی ندی نالوں، برساتی آبی گزرگاہوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا خدشہ ہے۔ 

این ڈی ایم اے  کے مطابق گلگت بلتستان میں دریائے سندھ، دریائے یاسین، دریائے غذر، دریائے کیلیک، دریائے منٹاکا، دریائے داریل اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے ۔ خیبرپختونخوا میں دریائے لوٹھکو، اشیرائی خوڑ، دریائے دارال، آلائی خوڑ، گڑائی خوڑ، خان خوڑ، دریائے پالاس، دریائے سیرن، دریائے دھور، دریائے جندی، دریائے بارہ، دریائے گومل، ٹانک زام اور مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے ۔ 

آزاد کشمیر میں دریائے نیلم، دریائے پونچھ، دریائے جہلم، دریائے ماہل اور ان کے معاون ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے ۔ شمال مشرقی پنجاب میں سیالکوٹ کے ایک اور پھلکو نالہ، نارووال کے بین، بسنتر اور ڈگ نالوں جبکہ ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی برساتی نالوں میں مقامی سیلاب کا امکان ہے ۔ بلوچستان میں دریائے ژوب، دریائے کنگری اور بارکھان، لورالائی، مستونگ اور قلات کے برساتی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ 

این ڈی ایم اے کا کہنا ہےکہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران دریائے سوات، دریائے پنجکوڑہ اور ان کے معاون دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے ۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کا امکان، پانی کا بہاؤ 70 ہزار کیوسک تک پہنچ سکتا ہے۔ دریائے سندھ میں تربیلا ڈیم کے بالائی علاقوں میں نچلے درجے کے سیلاب کا امکان، پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 70 ہزار کیوسک تک متوقع ہے ۔ دریائے چناب کے مرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ 

این ڈی ایم اے کی متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے، ہنگامی انتظامات مکمل رکھنے اور حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ، کہنا ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کو عبور کرنے سے اجتناب کریں ،  مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔