(ویب ڈیسک) انگلش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کیون پیٹرسن کا کہنا ہے انڈین پریمیئر لیگ نے میرا بین الاقوامی کیریئر تباہ کردیا۔اس بات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کیا ہے جو کہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہاہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کیون پیٹرسن کا ایک حالیہ انٹرویو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ انٹرویو کے ایک حصے میں، انہوں نے کہا کہ انڈین پریمیئر لیگ نے ان کا بین الاقوامی کیریئر تباہ کر دیا۔ پیٹرسن آئی پی ایل میں دہلی کیپٹلس اور آر سی بی جیسی ٹیموں کے لیے کھیل چکے ہیں۔انگلینڈ کے سابق کپتان کیون پیٹرسن اپنے وقت کے سب سے تباہ کن بلے بازوں میں سے ایک تھے۔ تاہم، ان کا خیال ہے کہ ای سی بی کے ساتھ تنازعہ کی وجہ سے ان کا کیریئر قبل از وقت ختم ہو گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انڈین پریمیئر لیگ نے ان کا بین الاقوامی کیریئر برباد کر دیا۔
اس انٹرویو میں پیٹرسن نے کہا کہ آئی پی ایل میں کھیلنے کے حوالے سے بورڈ کے ساتھ طویل تنازعہ کی وجہ سے ان کا بین الاقوامی کیریئر قبل از وقت ختم ہو گیا۔ پیٹرسن نے الزام لگایا کہ انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل کے ابتدائی سالوں میں ان کے خلاف سازش کرنے کے لیے میڈیا کا استعمال کیا۔ 2008 میں آئی پی ایل کے افتتاحی سیزن میں، صرف ایک انگلش کھلاڑی، دیمتری ماسکرینہاس، راجستھان رائلز کے لیے کھیلے تھے کیونکہ ای سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹ رکھنے والے کھلاڑیوں کو لیگ میں کھیلنے سے روک دیا تھا۔ؤ
انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے 2009 میں کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت دی، جو کہ تین ہفتے کی حد سے مشروط تھی ۔ پیٹرسن کا کہنا ہے کہ ان کا انداز آئی پی ایل کے لیے بالکل موزوں تھا، لیکن رائل چیلنجرز بنگلور کے ساتھ لیگ کو ترجیح دینے سے انگلینڈ کی ٹیم میں ان کی جگہ متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا میں نے بہت بڑی قربانیاں دیں۔ میں نے اپنا کیریئر کھو دیا، اسی لیے اس بورڈ میں موجود ہر کوئی میرے خلاف ہو گیا۔
سابق انگلش کپتان پیٹرسن نے وضاحت کرتے ہوئے کہامیں 33 سال کا تھا جب انگلینڈ کے لیے میرا کیریئر ختم ہوا، میں نے صرف 104 ٹیسٹ میچ کھیلے، مجھے 150-160 ٹیسٹ کھیل کر 12000-13000 رنز بنانے چاہیے تھے۔ یہ میرا حق تھا۔ انہوں نے مزید کہا ای سی بی نے میرے پیچھے پڑنے کے لیے ٹیلی گراف اخبار کا استعمال کیا۔ میں اس میں زیادہ نہیں جانا چاہتا۔ یہ سب بہت مشہور ہوا اور اب میں بہت خوش اور پرامن زندگی گزار رہا ہوں۔
کیوں پیٹرسن نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں8ہزار 181 رنز بنائے جس میں 23 سنچریاں اور 35 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ذاتی نقصانات کے باوجود، پیٹرسن کا خیال ہے کہ ان کے فیصلوں نے آنے والے انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو فرنچائز کرکٹ میں کھیلنے کی زیادہ آزادی دی ہے۔