دوریاں بڑھنے لگیں؛ پی ڈی ایم کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا

pakistan democratic movement
pdm

سٹی 42: پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا، پی ڈی ایم کی جانب سے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو شوکاز نوٹس پر پیپلز پارٹی نے جواب دینے سے انکار کر دیا ۔ پیپلز پارٹی نے وضاحت نہ کی تو تحریک کامستقبل کیا ہوگا؟

پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں، استعفے نہ دینے کے بعد سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کیلئے بلوچستان عوامی پارٹی سے ووٹ لینے پر پی ڈی ایم میں شامل 8 دیگر جماعتیں پیپلز پارٹی سے ناراض ہیں۔

پی ڈی ایم کی جانب سے بھجوائے جانے والے نوٹس پر پیپلز پارٹی نے پارٹی رہنمائوں سے مشاورت کرکے کسی قسم کا بھی جواب دینے سے انکار کر دیاہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے جواب نہ دیئے جانے کے ردعمل پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اتحاد کا فیصلہ توڑا ہے ، جواب تو دینا پڑےگا۔

پی ڈی ایم کے نائب صدر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پی ڈی ایم ایک تحریک کا نام ہے،  پیپلز پارٹی نہ بھی ہوئی تو تحریک جاری رہے گی۔ راجا پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے باپ سے ووٹ نہیں لیے۔ دلاور خان کا تعلق ن لیگ سے تھا۔ شکایات پر بات آئی تو شکوے ہمیں بھی بہت ہیں، ن لیگ نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر سینٹ الیکشن لڑا۔

پی ڈی ایم کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا فیصلہ پیپلز پارٹی کی سی ای سی کے اجلاس اور شوکاز نوٹس کا جواب دینے کے بعد ہی ہوگا۔