ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے،ظہران ممدانی کا میئر الیکشن جیتنے کے بعد پہلا خطاب

نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے،ظہران ممدانی کا میئر الیکشن جیتنے کے بعد پہلا خطاب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی نے اپنے خطاب میں عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے  کہا کہ گزشتہ 12 ماہ کی انتخابی مہم میں تاریخ رقم ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل اب عوام کے ہاتھ میں ہے اور نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ عوام کی وجہ سے وہ آج وکٹری پارٹی میں کھڑے ہیں اور نیویارک کے عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ طاقت اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔

ممدانی نے اعلان کیا کہ یکم جنوری کو وہ میئر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور نیویارک کو ایسے شہر میں تبدیل کریں گے جہاں ورکنگ کلاس کے لوگوں کے لیے زندگی آسان ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ شہر اور جمہوریت عوام کی ملکیت ہے اور عوام کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق آج خوف کی شکست اور امید کی جیت ہوئی ہے، اور نیویارک میں اسلامو فوبیا کی کوئی گنجائش نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسی ڈرائیورز، شیفز اورنرسز کا بھی شکریہ، نیویارک کو ایسا بنائیں گے جہاں ورکنگ کلاس آسانی سے رہ سکے، سب ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، ایک ہزار سے زائد رضاکاروں کا انتخابی مہم میں حصہ لینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج اس شہر میں سانس لے رہے ہیں جس کا نیا جنم ہورہا ہے، آج خوف کی شکست اورامید کی جیت ہوئی، ہم نے خوفزدہ کرنے والے کو آج جواب دیدیا، نیویارک نے آج تبدیلی کیلئے ووٹ دیا، صرف اس بات کا افسوس ہے کہ آج کا دن دیکھنے میں بہت وقت لگا۔

عوام کے پرجوش نعروں کے درمیان ظہران ممدانی نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو ہوا وہ سیاست نہیں، سیاست اب ہوگی، عوام کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نیویارک میں اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں، عوام کیلئے لڑوں گا کیونکہ میں ان میں سے ہوں۔انہوں نے کہا کہ آج کے الیکشن کے نتائج نے ثابت کردیا کہ امید ابھی زندہ ہے، سیاسی اندھیرے میں نیویارک ایک اجالا بن کر ابھرا، مجھے معلوم ہے ڈونلڈ ٹرمپ میری تقریر دیکھ رہے ہیں، ٹرمپ سن لیں نیویارک تارکین وطن کا شہر ہے اور رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہوں، نیویارک اب وہ شہر نہیں رہا جہا ں آپ اسلاموفوبیا کے نام پر الیکشن جیتیں، کوئی ٹرمپ کو شکست دے سکتا ہے تو وہ نیویارک شہر ہے۔نیویارک کے نومنتخب میئر نے مزید کہا کہ نیویارک کو تارکین وطن نے مضبوط کیا ہے، یکم جنوری سے ہم ایک ایسی شہری حکومت بنائیں گےجو سب کیلئے فائدہ مند ہوگی، مزدور حقوق کیلئے یونینز کے ساتھ کھڑے ہوں گے، سکیورٹی اورانصاف سب کو فراہم کیا جائے گا۔

 واضح رہے کہ نیویارک میں میئر کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کے مسلم امیدوار ظہران ممدانی نے فتح حاصل کی، جس کے ساتھ امریکی سیاست میں ایک نیا باب رقم ہوا۔ اینڈریو کومو، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود امیدوار تھے، کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2001 کے بعد یہ انتخابات سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ کے ساتھ ہوئے، تقریباً 17 لاکھ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ظہران ممدانی نے 52 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ 

یہ امریکی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ایک کم عمر مسلمان امیدوار نیویارک سٹی کے میئر منتخب ہوئے ہیں۔ ممدانی نے اپنے انتخابی منشور میں کرایوں کو منجمد کرنے، شہر کے زیر انتظام گروسری اسٹورز قائم کرنے، اور بسوں کو مفت کرنے جیسے وعدے کیے، جس کے بعد وہ ترقی پسند حلقوں میں ایک آئیکن بن گئے ہیں۔بین الاقوامی طور پر ممدانی نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نیویارک آئیں تو ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں۔ ڈاکٹر فاروق حسنات، ماہر بین الاقوامی امور کے مطابق، یہ انتخابات امریکی شہروں میں پولیٹیکل ری الائنمنٹ کا اشارہ ہیں اور مستقبل میں سیاسی تبدیلی کے امکانات کو بڑھاتے ہیں۔

دوسری جانب سابق صدر باراک اوباما نے ممدانی کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایسے رہنما عوامی مسائل کی پرواہ کرتے ہیں اور مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکست کی دو وجوہات بیان کیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ بیلٹ پر نہ تھے اور شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ری پبلکنز کی شکست ہوئی۔