سٹی 42:چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا بانی کی رہائی ایک پیچیدہ اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔کارکنان کو گراونڈ پر کچھ نظر نہیں آرہا اسلئے مایوسی پھیل رہی ہے۔وزیراعلٰی سہیل آفریدی کی تبدیلی کا کوئی چانس نہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اکتوبر سے ہم ہر ہفتے ملاقات کیلئے آتے ہیں لیکن ملاقاتیں نہیں ہونے دی جارہیں۔
بانی اور بشری بی بی کی صحت کے حوالے سے بہت زیادہ تشویش ہے۔ملک کے خیر خواہ ملاقاتوں میں خلل نہیں ڈالتے۔ملاقاتیں ہونگی تو معرکہ حق کی خوشی کو چار چاند لگ جائینگے۔
معرکہ حق کی فتح افواج پاکستان کی قربانیوں اور قوم کی یکجہتی سے ممکن ہوئی۔معرکہ حق نے پاکستان کی دفاع کی بنیادیں مضبوط کیں۔معرکہ حق نے پاکستان کے وقار میں نئی جان ڈالی۔معرکہ حق نے خطے میں طاقت کے توازن کا از سر نو تعین کیا۔قوم کی یکجہتی اور افواج کی قربانی سے ہم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔
دشمن اب پاکستان پر حملہ آور ہونے سے قبل دس بار سوچے گا۔دشمن کے خلاف ہم کل بھی اکٹھے تھے آج بھی اکٹھے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا بانی کی رہائی ایک پیچیدہ اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ملک بند گلی میں جاچکا ہے ریاست کے تین آرگن ایک ہوچکے ہیں۔میڈیا پیکا اور معاشی مسائل کی وجہ سے بحران کا شکار ہے۔عدلیہ ایک سال سے بانی اور بشری کی کیسز کی معطلی کی اپیلیں نہیں سن رہی۔
سزا معطلی کی اپیل سنے بغیر علیہ مرکزی اپیلوں میں گئی۔القادر کیس کی مرکزی اپیلوں پر ایڈورس فیصلہ آنے سے ملک مزید بند گلی میں چلا جائے گا۔
بانی کو عوام سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔عدلیہ سے درخواست ہے چاہے سپریم کورٹ یا آئینی عدالت بانی کی اپیلوں کو سنے لیکن آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں۔عدلیہ سے درخواست ہے مزید پیچیدگیاں پیدا نہ کریں۔اگر مزید ناموافق فیصلے آگئے تو اسے مزید نقصان ہوگا۔اگر ہم دنیا کے مسائل حل کرسکتے ہیں تو ایمانداری سے اپنے مسائل بھی حل کریں۔بڑی جماعتوں میں اختلافات ہوتے ہیں ٹانگہ پارٹیوں میں نہیں ہوتے۔ہمارا فوکس اس وقت بانی اور انکی اہلیہ کی رہائی اور علاج ہے۔
وزیراعلٰی سہیل آفریدی کی تبدیلی کا کوئی چانس نہیں۔
بانی کی بہنیں ہمارے لئے قابل احترام ہے پارٹی کو بھی ہدایات ہیں بہنوں سے اچھی کوآرڈینیشن رکھیں۔موجودہ حالات میں پارٹی کو اختلافات ایک طرف رکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔پارٹی میں اگر کسی کے گلے شکوے ہیں وہ فی الحال اسے پسند پشت ڈالے۔بانی کی بہنوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں نہ انہوں نے کبھی ایسی خواہش کا اظہار کیا۔
ہم تسلیم کرتے ہیں ورکرز اور فیملی ہم سے مطمئن نہیں ہونگے۔ورکرز اور فیملی ہم سے نتائج چاہتے ہیں ہم بھی اپنی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔بانی کو دنیا کی کوئی طاقت مائنس نہیں کرسکتی۔بانی کو سزائیں دی گئیں، تین سال سے جیل میں ہیں لیکن عوام بانی کے ساتھ کھڑی ہے۔بانی اور عوام کے درمیان کوئی حائل نہیں ہوسکتا۔
بانی کو مائنس کرنے کی باتیں پارٹی اور فیملی میں تفرقہ ڈالنے کی سازش ہے۔میرے گھر کے سامنے آزاد کشمیر کے لوگوں کے احتجاج کا مقصد پارلیمانی بورڈ میں توسیع کا مطالبہ تھا۔
ہم نے کہا ہے ہم 25 لوگوں کا پارلیمانی بورڈ نہیں بنا سکتے۔آزاد کشمیر کے پارلیمانی بورڈ کا معاملہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے اسکو دیکھ لینگے۔لیڈرشپ کے خلاف پارٹی کے اندر غصہ قدرتی ہے۔
کارکنان کو گراونڈ پر کچھ نظر نہیں آرہا اسلئے مایوسی پھیل رہی ہے۔ہم اسی لئے کہتے ہیں عدلیہ ہماری اپیلوں پر جلدی فیصلے کریں۔ہم اسی لئے کہتے ہیں اگر بات چیت کرنی ہے تو اسکو سنجیدگی سے اور تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔سیاسی معاملات سیاسی انداز میں آگے بڑھنے چاہیئے۔
ہمیں امید ابھی بھی ہے مایوسی نہیں ہے چیزیں بہتری کی طرف جائیں گی۔حکومت اور باقی لوگوں کو ٹائم نکالنا ہوگا۔اگر کوئی سمجھتا ہے وقت ملے گا تو دیکھیں گے تو یہ بدقسمتی ہوگی۔پارٹی کا عہدہ میرے پاس بانی کی امانت ہے۔بانی کا اعتماد جب تک ہے تب تک یہ عہدہ میرے پاس ہے۔پارٹی کے چیئرمین بانی ہیں میں انکی نمائندگی کررہا ہوں۔
پارٹی میں مایوسی اور غصے کی وجہ سے معاملات سیاسی لوگوں کے ہاتھ سے نکل جائینگے۔