ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا

The hottest April, April heatwaves, City42, Climate Change , Global warming impacts
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اپریل ہماری ہسٹری کا دوسرا گرم ترین اپریل تھا۔ اس سے پہلے مارچ، فروری، جنوری، دسمبر اور نومبر بھی ہسٹری میں ازحد گرم مہینے تھے۔

  سردی، بہار اور گرمی کے مہینوں میں گرمی ہمیشہ کے معمول سے زیادہ ہونے کا معاملہ صرف پاکستان کے ساتھ نہیں، یہ دنیا کے کئی خطوں میں ہو رہا ہے اور دنیا میں اوسط ٹمپریچر  گزشتہ ایک صدر کے دستیاب ریکارڈز کے مقابلہ میں قدرے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ  ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے اثرات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں  رواں سال اپریل کا مہینہ ملکی تاریخ کے گرم ترین مہینوں میں شمار ہو گیا۔ 

پاکستان کی میٹ ڈیپارٹمنٹ نے تصدیق کی ہے کہ اپریل 2025ء ملک کے 65 سالہ موسمیاتی ریکارڈ میں دوسرا گرم ترین مہینہ ہے۔ اپریل کے دوران درجہ حرارت اوسطاً معمول سے 3.37 ڈگری سینٹی گریڈ  زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اوسط ٹمپریچر میں سوا تین ڈگری سیلسئیس کا فرق دراصل بہت بڑٓ فرق ہے۔ 

 گزشتہ ماہ (اپریل میں) دن کے وقت گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور اوسط درجہ حرارت معمول سے 4.66 ڈگری زائد رہا۔ اسی طرح راتوں کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا، جو معمول سے 2.57 ڈگری زیادہ ریکارڈ ہوا۔

ہیٹ ویوو فنامنا کے اثرات 

 اپریل کے دوران (اور اس سے پہلے مارچ کے دوران بھی) زیادہ گرمی کو ہیٹ ویوو کا اثر تصور کیا جا رہا ہے، ہیٹ ویوو ایک نارمل موسمیاتی فنامنا رہا ہے لیکن اب کچھ عرصہ سے موسم  (ماحولیاتی تبدیلی کا امپیکٹ) ایسی عجیب کروٹ لے رہا ہے کہ ہیٹ ویوو اور کولڈ ویوو دونوں فنامناز کا بار بار ظاہر ہونا بڑھ گیا ہے۔  اس سال پاکستان اور اندیا مین ہیٹ ویووز کا ظہور فروری سے ہی ہونے لگا تھا جو مارچ اور اپریل کے دوران عروج پر رہا، اب مئی میں آج کل پرسوں اور اترسوں کے دو چار دن ویسٹرلی وِنڈز کے زیر اچر قدرے ٹھنڈے گزرنے کے بعد ایک بار پھر سندھ ، پنجاب میں ہیٹ ویوو آنے کا امکان ہے۔

اپریل میں انچاس!

اپریل کا سب سے گرم دن 17 اپریل کو شہید بےنظیر آباد (سابقہ نوابشاہ) میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔

یہ گرمی صرف درجہ حرارت تک محدود نہیں رہی بلکہ بارشوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اپریل کے دوران ملک میں بارشوں کی شرح معمول سے 59 فیصد کم رہی، جس نے خشکی اور موسمی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

 ماحولیاتی ماہرین اس صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ آئندہ مہینے مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔