سٹی42: بھارت کی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے تفریحی شہر نینی تال میں باہر سے بھیجے گئے ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں پر بلا اشتعال تشدد کیا اور ان کی دکانوں پر توڑ پھوڑ کی۔
ہندوانتہاپسندوں کی جانب سے مارکیٹ والوں کو ڈرایا دھمکایا گیا،گالم گلوچ اور مار پیٹ کی گئی۔
نینی تال شہر میں مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے والی لڑکی شائلہ نگی کو بھی انتہاپسندوں کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
شائلہ نگی کا کہنا ہے کہ نشے میں دھت ہجوم نے ان پر حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ کرنے والوں کا تعلق نینی تال سے نہیں تھا، اس واقعے کے بعد خواتین خود کو محفوظ تصور نہیں کرتیں۔
شائلہ نگی نے کہا کہ وہ خوف زدہ نہیں ہیں، آئندہ بھی اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔
بھارت کے کینہ پرور وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر ایک طرف تو پہلگان فالس فلیگ آپریشن رچا کر پاکستان کے خلاف بلا اشتعال جارحانہ حرکتین کی جا رہی ہیں، دوسری طرف پاکستان کے ساتھ کشیدگی کا ہوا کھرا کر کے بھارت کے اندر انتہا پسند ہندوتوا پرست مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو کچلنے کی اپنی پرانی سازشوں کو آگے برھا رہے ہیں۔ اتراکھنڈ کی سیاست پر قبضہ کرنے میں بی جے پی 2021 میں کامیاب ہوئی تھی۔ریاست کا وزیر اعلی دھامی بی جے پی کا ایک انتہا پسند کارکن ہے جو کل کیدارناتھ مندر میں یاترا کا آغاز کرنے کی تقریب میں مودی کے نام پر خاص پوجا کرنے پہنچا ہوا تھا۔
نینی تال میں مسلمانوں کے خلاف تشدد ک یآگ بھڑکانے کے لئے اس بار بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگوں نے ایک 12 سالہ بچی کے ریپ کا 75 سال کے بوڑھے پر الزام لگایا۔
اس کہانی کی بناد پر باہر سے انتہا پسندوں کو بلوا کر شہر مین مسلمان دوکانداروں کی املاک کو شانہ بنایا گیا جمعرات تک، صورت حال بڑھ گئی تھی، پرتشدد ہجوم نے املاک کو تباہ کر دیا تھا اور شہر عملی طور پر بند ہو گیا تھا۔جس پر اتراکھنڈ ہائی کورٹ کو از خود نوٹس لینا پرا۔
جمعہ کو، اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا، ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ امن و امان کو یقینی بنائے اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے سے روکے۔