ویب ڈیسک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ایران میں خامنہ ای کی پالیسیوں کو جاری رکھنے والے کسی سپریم لیڈر کو قبول نہیں کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران مین سپریم لیڈر بنائے جانے کی باتیں سن رہے ہیں۔ مجتبیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے ہیں جوکہ ممکنہ طور پر ایران کے سپریم لیڈر ہو سکتے ہیں، خامنہ ای کی پالیسیوں کو جاری رکھنے والے کسی لیڈر کو قبول نہیں کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا میں ایسا شخص چاہتا ہوں جو ایران میں اتحاد اور امن لائے ۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ میں سپریم لیڈ کے انتخاب میں شامل ہونا چاہتاہوں، مجتبیٰ خامنہ ای میرے لیئے ناقابل قبول ہے۔ خامنہ ای کی پالیسیاں جاری رکھنے والے لیڈر کو قبول نہیں کریں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انگلینڈ کے وزیراعظم کئیر سٹارمراور سپین کے وزیر اعظم پر بھی سخت تنقیدکی۔ ٹرمپ نے کہا کہ کیئر سٹارمر ونسٹن چرچل نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، مجھے انگلینڈ کے وزیر اعظم کے رویے پر حیران اور مایوسی ہوئی۔ انگلینڈ بہت مایوس کن رہا ہے،سب جانتے ہیں دشمن ہم پر حملہ آور ہے،کیئراسٹارمر کو بلا کسی ہچکچاہٹ کے اڈے فراہم کرنے چاہئیں۔ اسٹارمر کے ساتھ تعلق اچھا ہے، وہ بعض اوقات کرنے والے کام نہیں کرتے،ہمارے پاس بہت سے کامیاب ممالک ہیں لیکن سپین ناکام ہے، سپین کا غیرذمہ دارانہ رویہ ہے،وہ نیٹو کے خلاف نفرت رکھتا ہے۔ سپین کے پرائم منسٹر نے دراصل امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں سپین کے وہ اڈے استعمال کرنے سے روک دیا ہے جنہیں امریکہ نیٹو کی سرگرمیوں کے لئے استعمال کر سکتا ہے