ویب ڈیسک:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے پیش نظر حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا 15 دن کے بجائے ہفتہ وار جائزہ لینے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، تاہم پی ایس او نے نئے درآمدی ٹینڈرز جاری کر دیے ہیں اور ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں، جس کی وجہ سے فوری قلت کا خطرہ نہیں۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب سے متبادل روٹ کے ذریعے تیل کی فراہمی کی درخواست بھی کی گئی ہے، جس پر سعودی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے۔ اجلاس میں ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ روکنے کے لیے سخت نگرانی کی تجویز دی گئی جبکہ توانائی کی بچت کے لیے ورک فرام ہوم پر عمل درآمد بھی زیر غور ہے۔ یہ تجاویز ای سی سی میں منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔
مشرقی وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے باعث ملک میں پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 15 مارچ تک 153.50 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر تقریباً 186.47 روپے فی لیٹر ہونے کا امکان ہے، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 50 روپے فی لیٹر سے زائد اضافہ متوقع ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 93.02 ڈالر سے بڑھ کر 138 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان ہے، اور پیٹرول کی قیمت 79.14 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 97.92 ڈالر فی بیرل ہو سکتی ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث ملک میں ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات کے پیش نظر تیل کمپنیوں نے پیٹرول پمپس کو محدود سپلائی فراہم کرنا شروع کر دی ہے، اور حکومت اضافی کارگوز کے انتظامات میں سرگرم ہو گئی ہے۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھ کر کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی موجودہ صورتحال کے باعث او ایم سیز نے پیٹرولیم مصنوعات کے کوٹے مقرر کر دیے ہیں اور آرڈرز میں بار بار تبدیلی یا منسوخی کی جا رہی ہے، جس سے مصنوعی قلت اور خوف و ہراس پیدا ہو سکتا ہے۔
وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 25 دن کا ایندھن موجود ہے، او ایم سیز 20 دن کے ذخیرے کی پابندی کرتے ہیں، اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے دو ماہ قبل ہی پیٹرولیم کے ذخائر بڑھانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ جنوری میں او ایم سیز نے 25 دن کا ذخیرہ مکمل کیا تھا، جسے فروری میں مزید تین دن بڑھایا گیا۔