علی رامے: پنجاب حکومت نے بڑھتے ہوئے پنشن اخراجات پر قابو پانے اور سرکاری خزانے پر مالی دباؤ کم کرنے کے لیے جامع پنشن اصلاحات کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت آئندہ برسوں میں کھربوں روپے کی بچت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے پنشن ماڈل کے نفاذ سے پہلے ہی سال میں پنجاب حکومت کو 58 ارب روپے کی بچت حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ طویل المدتی بنیادوں پر 30 برس کے دوران 2.7 ٹریلین روپے سے زائد کی بچت ممکن ہو سکے گی۔
حکومتی تخمینوں کے مطابق موجودہ پنشن اصلاحات کے نتیجے میں آئندہ 10 برسوں کے دوران تقریباً 2.9 ٹریلین روپے کی بچت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ کمیوٹیشن ادائیگیوں میں تاخیر کے باعث تقریباً 100 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ بھی مؤخر کیا جا سکے گا۔
اصلاحاتی منصوبے کے تحت مجموعی پنشن واجبات کو 11.9 ٹریلین روپے سے کم کرکے 5.7 ٹریلین روپے تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے صوبے کی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کی امید ہے۔
حکومت بڑھتے ہوئے پنشن بوجھ کو کم کرنے کے لیے مختلف مالیاتی حکمت عملیوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ پنشن اخراجات میں کمی کو نئے مالی سال کی اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ اصلاحات کا مقصد سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال، مالیاتی نظم و ضبط کا فروغ اور مستقبل میں پنشن ادائیگیوں کے نظام کو پائیدار بنانا ہے۔