ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں انسانوں کا سمندر دیکھ ٹرمپ بوکھلا گئے

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں انسانوں کا سمندر دیکھ ٹرمپ بوکھلا گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری ہیں۔ اور ان کے آخری دیدار کیلئے لوگوں کا جم غفیر جمع ہے۔ دارالحکومت تہران کی شاہراہوں پر تاحد نگاہ لوگوں کا سیلاب نظر آرہا ہے۔ اسی اثناء میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں جمع ہونے والے بڑے ہجوم پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
 ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ’ایکسیوس‘ کو دیئےگئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ تہران میں جاری آخری رسومات پر نظر رکھے ہوئے تھے، آخری رسومات میں بھیڑ دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ خامنہ ای ملک میں غیر مقبول ہوچکے تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سوچا تھا کہ لوگ خامنہ ای سے نفرت کرتے تھے۔ لیکن تہران میں لاکھوں لوگوں کا جم غفیر دیکھ کر وہ حیران ہو گئے۔ آخری رسومات کے دوران غم میں روتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر ٹرمپ نے کہا کہ شاید یہ آنسو محض دکھاوا ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ ایران مذاکرات کیلئے بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے آخری رسومات مکمل ہونے تک مذاکرات ملتوی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں ایران کے کئی اعلیٰ حکام موجود تھے اور امریکہ چاہے تو ان پر حملہ کر سکتا ہے، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ کیونکہ مذاکرات کیلئے قیادت کی موجودگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا وہ سب وہاں موجود ہیں۔ ہم ان سب کو ایک گولی سے ختم کرسکتے ہیں، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ ہمارے پاس بات چیت کرنے کیلئے کوئی نہیں بچے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی فریق آخری رسومات کے دوران حملہ نہیں کریگا۔

  آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں لوگوں کی شرکت کے متعلق ایران کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 2 سے 3 دنوں میں تقریباً 15 ملین افراد آخری رسومات میں شامل ہوسکتے ہیں۔امام خمینی گریٹ مصلیٰ کے قریب عارضی اسپتال بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت اور خاندان کے دیگر افراد کا تابوت بھی عوام کے دیکھنے کے لیے رکھا گیا ہے۔ بھیڑ میں شامل لوگوں نے سیاہ لباس زیب تن کیے اور ’مرگ بر امریکہ‘ اور ’مرگ بر اسرائیل‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ کچھ لوگوں کے پوسٹروں پر ٹرمپ کے قتل کا مطالبہ بھی درج تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای آخری رسومات میں نظر نہیں آئے۔ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای بھی اس حملے میں زخمی ہو گئے تھے، جس میں ان کے والد، والدہ اور اہلیہ کی موت ہو گئی تھی۔ تبھی سے وہ ایرانی میڈیا کے ذریعے صرف تحریری بیانات بھیج رہے ہیں۔  رپورٹ کے مطابق سیکورٹی حکام نے انہیں آخری رسومات میں آنے سے منع کر دیا ، کیونکہ خدشہ ہے کہ اسرائیل مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ایرانی افسران نے تہران، قم اور مشہد میں کئی الوداعی رسومات کا اعلان کیا ہے۔