ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نواز عمران ملاقات کب ہو گی، حکومت کی اعلی ترین سطح سے بیان آ گیا

Nawaz Imran meeting, Ishaq Dar, City42, Data Sahab, Ashura, Lahore, Pakistani politics , Adiala Jail, Qaidi Number 804
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: نواز شریف اڈیالہ جیل جا کر قیدی نمبر  804 سے ملاقات کب کریں گے۔  وفاقی حکومت کی جانب سے اعلیٰ ترین سطح پر اپنی پوزیشن واضح کر دی گئی۔

  نواز شریف کو ایسی کسی ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں۔ سابق پرائم منسٹر اور مسلم لیگ نون کے مینٹور پریذیڈنٹ میاں نواز شریف کی ایک اور سابق پرائم منسٹر اور قیدی نمبر  804 کے نام سے مشہور عمران خان سے ملاقات کرنے کے لئے اڈیالہ جیل جانے کی "ڈھمکیری" اتنی زیادہ اچھالی گئی کہ آخر ڈپٹی  پرائم منسٹر کو صاف الفاظ مین بتانا پڑا کہ نواز شریف کا ایسا کوئی ارادہ نہیں اور  اس مفروضہ  ملاقات کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں۔

 اسحاق ڈار س اپنے معمول کے مطابق لاہور میں داتا صاحب حاضری کے لئے گئے تو  کسی صحافی نے ان سے بہت تیزی سے پھیلنے والی اس "ڈھمکیری" کے بارے میں سوال پوچھ لیا۔

اسحاْ ڈار نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کہا، "  یہ ملاقات کسی کی خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن ہمیں کسی کے پاس جانے کی کوئی ضرورت نہیں."

صحافی کا مقام اور وقت کو فراموش کر کے اندھادھند ہائیپوتھیٹیکل سوال اور  ڈار کا جواب


نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار  میاں نواز شریف کی تمام حکومتوں میں ان کے معتمد معاون رہے ہیں اور آج کل میاں شہباز شریف کی حکومت میں معروف تاثر کے  مطابق نواز شریف کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسحاق ڈار  سے براہ راست  بات کرنے کا موقع ملا تو صحافی نے مقام (دربار داتا صاحب) اور وقت  (عاشور) کو نظر انداز کرتے ہوئے  اندھا دھند ان سے یہ ہائیپوتھیٹیکل سوال کر ڈالا کہ " کیا نواز شریف اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے جارہے ہیں."  تو ڈپٹی پرائم منسٹر نے لگی لپٹی رکھے بغیر صحافی کی غلط فہمی دور کر دی اور کہا،"یہ ملاقات کسی کی خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن ہمیں کسی کے پاس جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔"

عمران خان سزا اور مقدمات  کوبھگتیں گے

اسحاق ڈار نے مہذب الفاظ میں بتایا کہ عمران خان جس مقدمہ میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور جن مقدمات میں زیر تفتیش ہے اور ان پر جو مقدمات عدالتوں میں سماعت کے مراحل میں ہیں، وہ انہیں قانون کے مطابق بھگتیں گے اور حکومت ان کو جیل سے نکالنے کے لئے کوئی کردار ادا کرنے کے متعلق نہیں سوچ رہی۔ اسحاق ڈار کے الفاظ تھے، " قانون اپنا راستہ خود بنائے گا."

نواز عمران ملاقات کی ڈھمکیری کہاں سے آئی؟

انہوں نے بیک وقت مسلم لیگ نون کے مینٹور نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے مینٹور صدر آصف علی زرداری کے متعلق پھیلائی گئی "ڈھمکیری"  کی شانِ نزول کے متعلق مہذب الفاظ میں ایک ہی جملے میں ساری کہانی بتا دی ، ان کے الفاظ تھے، "خود اسپانسرڈ قسم کی"خبریں" پھیلائی جاتی ہیں۔"

پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں مانگا؛ ایک اور ڈھمکیری کی تردید

وزیر خارجہ نے پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارتیں مانگنے کی افواہوں کی بھی تردید کی اور کہاکہ پیپلز پارٹی نے تو وزارتیں لینے کی کوئی بات نہیں کی۔  پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی ہے اور رہے گی۔ 

اسحاق ڈار نے کہا، " پیپلز پارٹی نے مشکل وقت میں ساتھ دیا. اسی لیے اچھے وقت میں نہیں چھوڑیں گے۔ "اچھے وقت" کی وضاحت کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا، "اب حکومت کو سادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔"

حکومت کے اصولی نکتہِ نظر کی وضاحت کرتے ہوئےاسحاق ڈار نےکہا،" حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے، چاہے وہ حکومت کا حصہ ہوں یا اپوزیشن کی صف میں ہوں۔"

آئین اور قانون کو پس پشت ڈالنا ممکن نہیں

عمران خان کو "معافی" دے دینے اور  "انڈیا کے ساتھ جنگ بندی ہو گئی تو عمران کے ساتھ جنگ بندی کیوں نہیں" جیسے زیر لب مطالبات کا حوالہ دیئے بغیر کہنہ مشق اعتدال پرست سٹیٹسمین نے کہ،" پاکستان پر حملے کے وقت حکومتی اور اپوزیشن جماعت کا فرق مٹ گیا تھا، یہ ایک مثالی تجربہ تھا لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آئین اور قانون کو پس پشت ڈال دیا جائے۔", "جب پاکستان پر حملہ ہوا تو حکومت نے تمام جماعتوں کو انگیج کیا او اس کا نتیجہ دنیا نے ایک متحد پاکستانی آواز کی صورت میں دیکھا۔ "  لیکن، اسحاق ڈار نے واضح الفاظ میں بتایا،  "جہاں تک قانون اور آئین کا تعلق ہے، اس پر مکمل عمل ہوگا، اگر کہیں کرپشن ہوئی ہے تو  اسے بے نقاب ہونا چاہیے اور  جہاں بھی کرپشن ہو اس کے خاتمے کے لیے قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔"