ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی، غزہ جنگ بندی؛ حماس کا مثبت جواب

City42, Hamas hostage deal, Israel Hamas deal, Gaza war, Gaza ceasefire, Arab Mediators
کیپشن: اسرائیلی یرغمال بھائیوں زیو اور گالی برمن کے اہل خانہ اور دوست 4 جولائی 2025 کو تل ابیب میں حماس کی قید سے ان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے مارچ میں شریک ہیں۔ (فوٹو: اوشالوم ساسونی Avshalom Sassoni/Flash90)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: اسرائیل حماس کونفلکٹ میں ایک چونکا دینے والی ڈیویلپمنٹ یہ ہوئی ہے کہ حماس نے  ثالثوں کو یرغمالیوں کی ڈیل کی تجویز پر 'مثبت' جواب دیا ہے۔

حماس نے امریکی ثالثی میں غزہ کی جنگ بندی کی تجویز پر اپنا ردعمل ثالثوں کے حوالے کر دیا، مذاکرات سے واقف ایک فلسطینی اہلکار نے نیوز ایجنسی  رائٹرز کو بتایا کہ یہ "مثبت ہے اور اسے معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنی چاہیے۔"

اس سے  پہلے جمعہ کے روز یہ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ  غزہ جنگ بندی دو دن مین ممکن ہو سکتی ہے۔ تب یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ حماس کی طرف سے کسی مثبت پیش رفت کی عدم موجودگی میں دو دن میں جنگ بندی ہونے کی قیاس آرائی کیونکر حقیقت میں بدل سکتی ہے۔

سات اکتوبر  2023 کو حماس کے پانچ ہزار مسلح کارکنوں نےاسرائیل کے اندر گھس کر بڑے  پیمانے پر قتل عام کیا تھا اور دو سو اکاون افراد کو اغوا کر کے غزہ لے گئے تھے، ان یرغمالیوں مین سے بہت سے حماس کی قید کے دوران ہی مارے گئے، کچھ رہا ہو گئے اور بیس سے کم لوگ اب بھی زندہ حماس کی قید میں پڑے  ہیں جبکہ درجنوں لاشیں حماس کے قبضے میں ہیں جنہیں وہ بارگیننگ چِپ کے  طور پر استعمال کر رہی ہے۔

جنگ بندی کے لئے حالیہ دباؤ ایران اسرائیل جنگ بند ہونے کے بعد سے بڑھا ہے، اس میں عرب ممالک بھی شامل ہیں جو جنگ بندی چاہتے ہیں اور اسرائیل کے وہ لوگ بھی جو  636 دن سے اپنے یرغمالیوں کی زندہ واپسی کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔