ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وینزویلا پر حملہ : پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟  

وینزویلا پر حملہ : پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟  
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک ) عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ وینزویلا کی تازہ سیاسی صورتحال اور امریکی پابندیاں ہیں۔

 خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے وینزویلا پر حملے کے بعد امریکا باضابطہ طور پر اس کا کنٹرول سنبھالے گا جس کا واضح اشارہ صدر ٹرمپ اپنے بیان میں دے چکے ہیں۔

 اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا پر امریکی حملے وال اسٹریٹ پر بڑے ردعمل کو متحرک کرسکتے ہیں، جب جیو پولیٹیکل تناؤ بڑھتا ہے تو سرمایہ کار ہمیشہ سونے جیسے محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری بڑھاتے ہیں۔

 نئے سال کے آغاز میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی ایک بار پھر روز پکڑ رہی ہے، امریکہ نے وینزویلا پر زمینی حملہ کرکے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا ہے جس کے نتیجے میں وینزویلا اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر کے مستقبل پر غیریقینی صورتحال چھا گئی ہے۔

 تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بہت زیادہ ہے، یعنی وینزویلا کی برآمدات میں مزید رکاوٹوں سے قیمتوں پر فوری اثر پڑے گا۔

 امریکی پابندیوں کے باعث وینزویلا کی تیل برآمدات جنوری کے آغاز سے مکمل طور پر بند ہیں، اس صورتحال کے نتیجے میں ریاستی آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کو تیل کی پیداوار میں کمی کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ ملک میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہوچکی ہے، لاکھوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ گاہوں میں پھنس چکا ہے۔

 ذرائع کے مطابق امریکی حملے سے وینزویلا کے تیل کے پیداواری یا ریفائننگ نظام کو کوئی براہ راست نقصان نہیں پہنچا تاہم پابندیوں کے باعث دسمبر میں وینزویلا کی برآمدات گھٹ کر تقریباً پانچ لاکھ بیرل یومیہ رہ گئیں، جو نومبر کے مقابلے میں نصف تھیں، جنوری کے بعد صرف امریکی کمپنی شیوران کو محدود مقدار میں تقریباً ایک لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

 رپورٹ کے مطابق اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک (اوپیک پلس) نے پہلی سہ ماہی میں تیل کی پیداوار موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عالمی منڈی میں غیریقینی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی طور پر کیا گیا ہے۔

 توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا اور ایران سے جڑے جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے لیکن دیگر ممالک کی اضافی پیداوار اس اثر کو زائل کرسکتی ہے۔

 کیپیٹل اکنامکس کے مطابق وینزویلا میں قلیل مدتی رکاوٹ کو دیگر خطوں کی پیداوار آسانی سے پورا کرسکتی ہے۔