ویب ڈیسک: میٹا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرمارک زکربرگ نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد CSAM ، ڈیپ فیک مواد اور پلیٹ فارم پر پیش آنے والی بعض آپریشنل خامیوں کے معاملے پربھارتی حکومت سے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں نگرانی اور حفاظتی نظام مزید مضبوط بنانے کا یقین دلایا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطباق میٹا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرمارک زکربرگ نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد(سی ایس اے ایم) ، ڈیپ فیک مواد اور پلیٹ فارم پر پیش آنے والی بعض آپریشنل خامیوں کے معاملے پربھارتی حکومت سے معذرت کا اظہار کیا ہے۔ یہ معافی کی خبر میٹا کے اعلیٰ حکام اور بھارتی سرکاری عہدیداروں کے درمیان ہونیوالی ایک ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کےسرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے میٹا کو واضح کیا کہ کمپنی صرف ایک غیر جانبدار ثالث (Intermediary) نہیں ہے کیونکہ اس کے الگورتھمز یہ طے کرتے ہیں کہ کون سا مواد کن صارفین تک پہنچے گا۔ اسی بنیاد پر حکومت نے کمپنی پر مقامی قوانین کی مکمل پابندی کی ضرورت پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق میٹا نے اعتراف کیا کہ پلیٹ فارم پر بعض حساس نوعیت کے مواد کی تشہیر اور پھیلاؤ کے حوالے سے خامیاں رہیں، جن پر کمپنی نے افسوس کا اظہار کیا اور مستقبل میں نگرانی اور حفاظتی نظام مزید مضبوط بنانے کا یقین دلایا۔
یاد رہے کہ یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب حال ہی میں حکومت نے انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد ( CSAM) کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے میٹا سے وضاحت طلب کی تھی۔ حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت دی تھی کہ وہ غیر قانونی اور نقصان دہ مواد کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
اس کے علاہو بھارت کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی فیس بک پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک پوسٹ عارضی طور پر بلاک ہونے کے واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور میٹا سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ کمپنی نے اس واقعہ کو ایک آپریشنل خرابی قرار دیا تھا۔ بھارتی حکومت نے ایک بار پھر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خبردار کیا ہے کہ انہیں آئی ٹی ایکٹ اور متعلقہ ضوابط پر مکمل عمل کرنا ہوگا، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔