سٹی42: ایک طرف مغربی اتحادی اسرائیل پر غزہ میں خوراک کا بحران حل کرنے اور جنگ بند کرنے کے لئے دباؤ بڑھاتے بڑھاتے فلسطین کو تسلیم کرنے کی دھمکیوں تک پہنچ گئے، دوسری طرف پرائم منسٹر نیتن یاہو جنگ بند کرنے کی بجائے مذاکرات کی ٹیبل پر ناکام ہونے کے بعد اب سارے غزہ پر فوجی قبضہ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔
آج یروشلم میں اتحادی حکومت کی محدود سیکورٹی میٹنگ کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو غزہ پر مکمل قبضے کے لیے تیار ہیں، یہ جاننے کے باوجود کہ یہ اقدام غزہ کے بعض علاقوں مین ممکنہ طور پر رکھے گئے حماس کے یرغمالیوں کو خطرے میں ڈالے گا
غزہ کے لیے فوجی منصوبوں پر بات چیت کے لیے ایک محدود سکیورٹی میٹنگ کے بعد، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو غزہ انکلیو پر قبضے کی طرف بہت زیادہ جھکاؤ رکھتے ہیں، تفصیلات سے واقف ایک نامعلوم ذریعہ نے یہ بات اسرائیل کے کان پبلک براڈکاسٹر کو بتائی۔
دیگر عبرانی زبان کے خبر رساں ادارے، بشمول Ynet اور i24 نیوز، اسی طرح کی رپورٹیں دے رہے ہیں، یہ سبھی رپورٹیں گمنام ذرائع کے حوالے سے آ رہی ہیں۔
آج کی میٹنگ میں آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے علاوہ اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر نے شرکت کی۔
اس وقت غزہ کی پٹی کے تقریباً 75 فیصد حصے پر آئی ڈی ایف کا کنٹرول ہے، لیکن نیتن یاہو کے نئے منصوبے کے تحت، فوج سے توقع کی جائے گی کہ وہ باقی ماندہ علاقے پر بھی قبضہ کر لے گی، جس سے پورا علاقہ اسرائیلی کنٹرول میں آ جائے گا۔
ایک ذریعے نے کان پبلک براڈ کاسٹر کو بتایا کہ حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی فوجی مہم ممکنہ طور پر باقی یرغمالیوں کو خطرے میں ڈالے گی، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا خیال ہے۔ اسرائیل کے پچاس یرغمالی حماس کے قبضہ میں ہیں، ان مین سے کون زندہ ہے کون مر چکا ہے، حماس نے کبھی اس کی وضاحت نہیں کی البتہ اسرائیل کے سکیورٹی ذرائع کا اپنا تخمینہ ہے کہ اب صرف بیس کے لگ بھگ ہی یرغمالی زندہ حالت مین حماس کی سرنگوں میں قید ہیں۔ ان یرغمالیوں کی واپسی کے لئے حماس کے ساتھ قطر اور مصر کے ذریعہ مذاکرات کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ رہے جس کے بعد ایک طرف تو یوپی ممالک کی طرف سے اسرائیل پر غزہ مین جنگ بند کرنے اور کم از کم خوراک کا بحرام فوری طور پر حل کرنے کے لئے دباؤ بے تحاشا برھ رہا ہے، دوسری طرف اسرائیل کے اندر سے حکومت پر حماس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے لیکن آج آنے والی اطلاعات کے مطابق پرائم منسٹر نیتن یاہو جو کر رہے ہیں وہ اتحادیوں اور پبلک کےمطالبات کے برعکس ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ڈی ایف اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں، ایک حد تک کیونکہ یہ یرغمالیوں کو ان کے اغوا کاروں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے جانے کے خطرے میں ڈالتا ہے جب کہ فوجیوں کو وہاں پہنچنا چاہیے جہاں انہیں رکھا جا رہا ہے۔
چینل 12 کے مطابق، پلان کو جمعرات کو منظوری کے لیے مکمل سیکیورٹی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کے دفتر نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ نیتن یاہو نے "آج ایک محدود سیکیورٹی بحث کی جو تقریباً 3 گھنٹے جاری رہی، جس میں چیف آف اسٹاف نے غزہ میں مہم جاری رکھنے کے لیے آپشنز پیش کیے"۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "آئی ڈی ایف سیکورٹی کابینہ کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔"