ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فرانس، انگلینڈ اور  کینیڈا  کے بعد مزید ملک فلسطین کو تسلیم کرنے کے اشارے دینےلگے

Gaza food crisis, Israel Hamas conflict, Prime Minister Care Stormer, Canadian Prime Minister Corny, President Trump
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو غزہ جنگ  پر صدر ٹرمپ کی جانب سے مخالفت ک سامنے آنے کے بعد  پہلے فرانس نے فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا، پھر انگلینڈ، اس کے بعد کینیڈا نے ستمبر میں فلسطین کو تسلیم کرنے کی دھمکی دی، اب فرانس، انگلینڈ اور کینیڈا کے بعد مزید ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے آمادگی کا اشارہ دے رہے ہیں جب کہ اسرائیل کے پرائم منسٹر اپنے ناقدوں کو حماس کی سرپرستی کا مجرم قرار دینے کے ساتھ غزہ میں جنگ مزید بڑھاتے جا رہے ہیں۔
برطانیہ کے  لیبر پرائم منسٹر کئیرسٹارمر نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے الٹی میٹم جاری کیا کہ انہیں یقین دہانی کرائی جائے کہ مغربی کنارے میں کوئی الحاق نہیں ہو گا، اور دو ریاستی حل کی طرف جانے والے طویل مدتی امن عمل کے عزم کا اظہار کیا جائے ورنہ انگلینڈ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے منگل کے روز اسرائیل کو  ایک بار پھر الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران اگر مخصوص شرائط، خاص طور پر غزہ سے متعلق ان کے مطالبات، کو پورا نہ کیا گیا تو برطانیہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

پرائم منسٹر کئیر سٹارمر کے مطالبات میں غزہ میں جنگ بندی، مغربی کنارے میں کسی قسم کا الحاق نہ ہونے کی یقین دہانی اور دو ریاستی حل کی طرف جانے والے طویل المدتی امن عمل کا عزم شامل ہے۔
برٹش پرائم منسٹر کے ریمارکس سے اسرائیل پر فلسطینیوں کے ساتھ  نتیجہ خیز سیاسی عمل شروع کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔
اسرائیلی حکام نے برٹش پرائم منسٹر کےاس بیان کو فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسٹارمر کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حماس کی "دہشت گردی کا انعام" قرار دیا۔ ان کا یہ ردعمل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے ارادے کے اعلان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
جب پہلی مرتبہ کچھ دن پہلے کئیر سٹارمر نے فلسطین کو تسلیم کرنے کی دھمکی دی تھی تب بھی نیتن یاہو نے اسے حماس کو اس کی دہشتگردی کا انعام دینے کے مترادف قرار دیا تھا۔

فلسطین کو تسلیم کرنے پر کینیڈا کے پرائم منسٹر نے کیا کہا تھا

پانچ روز پہلے یہ چونکا دینے والی خبر آئی کہ  کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے برطانیہ اور فرانس کے اسی طرح کے اعلانات کے بعد  ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی دھمکی دے دی۔

کینیڈا کے پرائم منسٹر کارنی نے گزشتہ بدھ کو ایک بیان میں کہا، "شہریوں کی بڑھتی ہوئی تکلیف امن، سلامتی اور تمام انسانی زندگیوں کے وقار کی حمایت کے لیے مربوط بین الاقوامی کارروائی میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی ہے۔"

کینیڈا کا ایک دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے تصور کی حمایت کرتا ہے، لیکن کینیڈا کا یہ مؤقف رہا ہے کہ فلسطین  کو تسلیم کرنا  اسرائیل فلوطی تنازع کے "مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل" کے حصے کے طور پر آنا چاہیے۔

اب پرائم منسٹر کارنی نے بدھ کو کہا کہ دو ریاستی حل کے امکانات "مستقل اور شدید طور پر ختم ہو گئے ہیں۔"

کارنی نے کہا، "دو ریاستی حل کو محفوظ رکھنے کا مطلب ہے کہ ان تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں جو تشدد یا دہشت گردی کی جگہ امن کا انتخاب کرتے ہیں، اور اسرائیل اور فلسطینی ریاستوں کے پرامن بقائے باہمی کے لیے ان کی فطری خواہش کا احترام کرنا ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لیے واحد روڈ میپ ہے"۔

کینیڈا نے کہا کہ اس کا فلسطین کو تسلیم کرنا "فلسطینی اتھارٹی کے انتہائی ضروری اصلاحات کے عزم پر منحصر ہے۔ کارنی کی ان مجوزہ اصلاحات میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر [محمود] عباس کی جانب سے اپنی طرز حکمرانی میں بنیادی طور پر اصلاحات کرنے کے ساتھ یہ اہم نکتہ شامل ہے کہ  2026 میں عام انتخابات کا انعقاد  ہو جس میں حماس کوئی حصہ نہ لے سکتی ہو، اور فلسطینی ریاست کو غیر فوجی ریاست بنانے کا وعدہ کیا جائے۔


کارنی نے اعادہ کیا کہ حماس کو 7 اکتوبر 2023، اسرائیل پر دہشت گردانہ حملوں مین اغوا کئے گئے تمام یرغمالیوں کو فوراً رہا کرنا چاہئے۔ حماس کو غیر مسلح کیا جانا چاہئے اور  "فلسطین کی مستقبل کی حکمرانی" میں حماس کا کوئی کردار  نہین ہونا چاہئے۔

وزیر اعظم کارنی نے کہا کہ "کینیڈا ہمیشہ امن اور سلامتی کے ساتھ رہنے والے مشرق وسطی میں ایک آزاد ریاست کے طور پر اسرائیل کے وجود کی مستقل حمایت کرے گا۔ اسرائیل کے لیے دیرپا امن کا کوئی بھی راستہ ایک قابل عمل اور مستحکم فلسطینی ریاست کے وجود سے ہی ممکن ہے، اور یہ (فلسطین) ایک ایسی ریاست ہو جو سلامتی اور امن کےساتھ رہنے کے اسرائیل کے ناقابل تنسیخ حق کو تسلیم کرے۔"

اسرائیلی وزارت خارجہ نے کینیڈا  کے پرائم منسٹر کے اعلان کو بھی حماس کے لیے انعام" قرار دیا تھا اور اس کی مذمت کی تھی۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ "اسرائیل کینیڈا کے وزیر اعظم کے بیان کو مسترد کرتا ہے۔" "اس وقت کینیڈین حکومت کی پوزیشن میں تبدیلی حماس کے لیے ایک انعام ہے اور غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک فریم ورک کے حصول کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔"

ٹرمپ نے کینیڈا کے اعلان پر  نیتن یاہو کی سائیڈ لی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو خود اسرائیل کے پرائم منسٹر نیتن یاہو پر غزہ میں جنگ بند کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں، کینیڈا کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اچانک اعلان پر نیتن یاہو کی حمایت کی ، صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ساتھ اس اعلان پر ردعمل کا اظہار کیا: "واہ! کینیڈا نے ابھی اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کو ریاست کا درجہ دے رہا ہے۔ اس سے ہمارے لیے ان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ اوہ کینیڈا!!!" مسٹر ٹرمپ نے کہا۔

بدھ کے روز کینیڈین پرائم منسٹر کارنی نے کہا تھا کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ اس بحران پر بات چیت کے بعد کیا گیا۔

برطانیہ اور فرانس نے اس ماہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اسرائیل پر غزہ میں مزید امداد بھیجنے کی اجازت دینے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔

سٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اس وقت فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا جب کہ اسرائیل "غزہ کی خوفناک صورتحال" کو ختم کرنے کے لیے "بنیادی اقدامات" نہیں کرتا، بشمول غزہ میں جنگ بندی کا قیام، مغربی کنارے کے علاقے کے الحاق کو روکنے کا عزم اور دو ریاستی حل پر مشتمل امن عمل کی جانب کام کرنے کا عہد۔

فرانس کے صدر میکرون نے کیا کہا تھا

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے اپنے تاریخی عزم کے ساتھ ہم آہنگ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ فرانس فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرے گا۔

عمانویل میکرون نے فرانس کے اس پالیسی شفٹ کی وجہ یہ بتائی،  "آج کی فوری ترجیح غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور شہری آبادی کو ریلیف پہنچانا ہے۔"

اسرائیل کے پرائم منسٹر  نیتن یاہو نے فرانس کے صدر کے اس بہت واضح وجوہات کے ساتھ کئے گئے اعلان کے بنیادی حقائق کو نظر انداز کیا اور  کہا کہ اسرائیل نے فرانس کے فیصلے کی "سختی سے مذمت" کی ہے اور یہ کہ وہ  حماس کو "دہشت گردی کا بدلہ دے رہا ہے اور ایک اور ایرانی پراکسی پیدا کرنے کا خطرہ مول لے رہاہے، جیسا کہ غزہ بن گیا تھا۔"

اسرائیل کے یرغمالیوں کے لواحقین کا شدید ردعمل

"فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بڑھتے ہوئے یورپی اقدامات" کے جواب میں، یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے، جو حماس کے 7 اکتوبر کے دہشت گردانہ حملے میں یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں کی نمائندگی کرتا ہے، بدھ کے روز کہا، "فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا جب کہ 50 یرغمالی حماس کی سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں، یہ دہشت گردی کے خلاف صریحاً انعام کے مترادف ہے، لیکن یہ دہشت گردی کے خلاف صریحاً انعام نہیں ہے۔ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ایک خطرناک اخلاقی اور سیاسی ناکامی خوفناک جرائم کو قانونی حیثیت بھی  دیتا ہے۔"

بدلے ہوئے حالات میں ٹرمپ کیاسوچتے ہیں

ایک طرف امریکہ کے اندر نیتن یاہو کی طویل تر ہوتی غزہ جنگ کی مخالفت اور دوسری طرف  امریکہ کے تزویراتی اتحادیوں کی فلسطین کو تسلیم کرنے کی دھمکیوں کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی وہی سوچ رہے ہیں جو وہ کئی ہفتوں بلکہ مہینوں سے  سوچ رہے تھے: ٹرمپ چاہتے ہین کہ غزہ میں حماس ہتھیار ڈال دے۔

ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا،  غزہ کے مصائب کے خاتمے کا تیز ترین طریقہ یہ ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے، یرغمالیوں کو رہا کرے۔
فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 28 جولائی 2025 کو ٹرن بیری، جنوب مغربی سکاٹ لینڈ میں ٹرمپ ٹرن بیری گالف کورسز میں میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ (کرسٹوفر فرلانگ/POOL/AFP)
 ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا  کہ غزہ میں بھوک اور دیگر پریشانیوں کو ختم کرنے کے لیے حماس دہشت گرد گروپ کو ہتھیار ڈال کر اپنے زیر حراست 50 یرغمالیوں کو رہا کرنا چاہیے۔ ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا،  "غزہ میں انسانی بحران کو ختم کرنے کا تیز ترین طریقہ یہ ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کرے!!!" 

ٹرمپ کا پبلک کے سامنے نکتہ نظر کچھ بھی ہو، یہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہ اسرائیل کے پرائم منسٹر نیتن یاہو پر غزہ مین جنگ بند کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ حماس مذاکرات کی میز پر کوئی لچک دکھانے کی بجائے مزید سخت ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجہ مین نیتن یاہو گزشتہ کچھ روز سے غزہ جنگ کو مزید بڑھانے کے اشارے دے رہے ہیں۔ 

ٹرمپ، وٹ کوف اور نیتن یاہو نے امریکہ، قطر اور مصر کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت میں حماس پر لاگ ہٹ دھرمی کا الزام لگایا ہے۔

حماس کیا چاہتی ہے

حماس کی غزہ اور فلسطین میں زمین پر پوزیشن کچھ بھی ہو، مذاکرات کی میز پر وہ اسرائیل کے پچاس یرغمالیوں کو جن میں سے بیشتر مر چکے ہیں، واپس کرنے کے عوض غزہ میں اپنی موجودگی بہرصورت برقرار رکھنے اور اس کی بجائے اسرائیل سے جنگ بندی کے ساتھ ہی غزہ خالی کر دینے کے مطالبات پر اصرار کر رہی ہے۔