سٹی42: حماس نے امریکہ کے صدر کی غزہ تجویز کا جواب جمع کراتے ہوئے تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔حماس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر اپنا ردعمل پیش کر دیا ہے، اور اعلان کیا ہے کہ وہ منصوبے میں دی گئی شرائط کے تحت باقی تمام مغویوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے اور تفصیلات پر بات کرنے کے لیے ثالثوں کے ساتھ فوری طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
حماس کا یہ جواب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کل کے اس الٹی میٹم کے بعد سامنے آیا کہ حماس کو اتوار کی شام چھ بجے تک معاہدہ کو قبول کرنا ہو گا ورنہ وہ حماس کو ختم کر دیں گے۔
حماس کے بیان (اور رابطہ کاری) کے بعد آج صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ معاہدہ طے پا جائے گا اور سب فریق فائدے میں رہیں گے۔
12 مئی 2025 کو وسطی غزہ کی پٹی میں دیر البلاح کے مشرق میں صلاح الدین اسٹریٹ پر حماس کی طرف سے امریکی اسرائیلی یرغمال ایڈان الیگزینڈر کی رہائی کے بعد پریس کے ارکان ریڈ کراس کے قافلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ (علی حسن/Flash90)
حماس کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ حماس بظاہر ان مذاکرات کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو تقریباً 2,000 فلسطینی سکیورٹی قیدیوں اور مقتول غزہ کے باشندوں کی لاشوں کی شناخت کے حوالے سے ہونے کی ضرورت ہے جنہیں 48 یرغمالیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا، جن میں سے 20 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔
لیکن حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یرغمالیوں کو "تبادلے کے عمل کے لیے ضروری میدانی حالات کی فراہمی کے ساتھ رہا کیا جائے گا۔"
اس میں اس معاملے کی مزید وضاحت نہیں کی گئی، لیکن مؤقف یہ بتاتا ہے کہ اگر زمینی حالات مناسب نہیں ہیں، معاہدہ گیا تب بھی معاہدہ ہونے کے 72 گھنٹوں کے اندر حماس تمام 48 مغویوں کو رہا نہیں کر ے گی۔ حماس نے ماضی میں ثالثوں کو بتایا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ مقتول یرغمالیوں کی لاشیں کہاں ہیں اور ان سب کو اسرائیل کو واپس پہنچانے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
حماس نے غزہ کا کنٹرول فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے ایک آزاد ادارے کے حوالے کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا بھی اعادہ کیا، جیسا کہ امریکی تجویز کے ذریعے تصور کیا گیا تھا۔
حماس کا کہنا ہے کہ "جہاں تک صدر ٹرمپ کی غزہ کی پٹی کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق سے متعلق دیگر مسائل کے بارے میں تجویز میں جو کچھ شامل ہے، اس پر ایک "جامع فلسطینی قومی فریم ورک" کے ذریعے بات چیت کی جائے گی، جس کا حماس بھی حصہ ہوگی۔"
غزہ کے مستقبل سے متعلق دیگر تمام مسائل میں یہ سوال شامل ہوگا کہ آیا حماس غیر مسلح ہو جائے گی - جو کہ امریکی تجویز کا ایک اہم حصہ ہے - غیر مسلح ہو جانا اب تک حماس کے لیے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتا رہاہے اور اب بھی اس گروپ کا بیان اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیتا کہ وہ قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔
مزید برآں، فلسطینی عوام کی مستقبل کی سیاسی امنگوں کے حوالے سے حماس کی" قومی فلسطینی ڈائیلاگ" کا حصہ بننے کی خواہش معاہدے کی بنیادی شرط سے متصادم دکھائی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حماس کا غزہ کی حکمرانی میں براہ راست یا بالواسطہ کوئی کردار نہیں ہو سکتا۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس نے دوسرے دھڑوں کے ساتھ بات چیت کی ہے تاکہ ثالثوں کو پیش کیا جانے والا ردعمل سامنے آ سکے۔ اس نے اس معاملے پر بین الاقوامی کوششوں کو سراہا، جن میں ٹرمپ کی طرف سے پیش قدمی، جنگ کے خاتمے، فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ میں امداد میں اضافے، پٹی پر قبضے کو مسترد کرنے، اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرنے کی امریکی تجویز کی دفعات کو اجاگر کرنا شامل ہے۔
یہ بھی فوری طور پر واضح نہیں ہے کہ آیاحماس کا ثالثوں کو پیش کیا گیا رسمی جواب عوامی بیان جیسا ہی ہے۔
ایک عرب سفارت کار نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ حماس اور ثالثوں سے اس مسئلے کے حوالے سے ترامیم کی توقع کی جا رہی تھی، کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے واشنگٹن میں آخری لمحات میں کئی تبدیلیاں کروا کر معاہدہ میں آئی ڈی ایف کے غزہ سے نکلنے کے عمل کو سست تر کروا لیا تھا۔ ان ہی تبدیلیوں سے اس معاہدہ کی حمایت کرنے والے مسلمان ملکوں کی ناراضگی سامنے آئی ہے۔