ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 شہر چھوڑ کر بھاگنےکاسنجیدہ مشورہ

Dwlhi Smog, Smog pollution, dangerous air pollution, city42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: ’’ اگر آپ کے پھیپھڑے کمزور ہیں تو فوراً دہلی چھوڑ دیں‘، پڑوسی ملک کے  آلودگی  کے ماہر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے شہریوں کو انتباہ کر دیا۔

دہلی کی ہوا کی خطرناک آلودگی نہ صرف پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ خون تک پہنچ کر جسم کے کئی اعضا کو سنگین نوعیت کا نقصان پہنچاتی ہے۔پی ایم 2.5  جیسے  باریک ذرات خون میں داخل ہو  جاتے ہیں اور  کئی اعضا میں پہنچ کر سوزش میں اضافہ کرتے ہیں۔

دہلی کی زہریلی ہوا، کچھ زیادہ زہرناک ہوگئی
  دہلی ہر موسم سرما میں زہریلے سموگ کی چادر اوڑھ لیتی ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بار ہوا  پہلےسے بھی زیادہ زہریلی ہے۔ اس دوران ایمس کے سابق ڈائریکٹر اور ملک کے معروف پلمونولوجسٹ ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے خبردار کیا ہے کہ دارالحکومت کو صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے، جو لوگوں کے پھیپھڑوں، دلوں اور دماغوں کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔
ڈاکٹر گلیریا نے خبردار کیا کہ دہلی کی ہوا کا معیار انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے اور کمزور پھیپھڑے والے لوگ اگر ممکن ہو تو شہر چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی دہلی چھوڑ کر نہیں جا سکتا تو اسے اپنی حفاظت کے لیے خاص اقدامات کرنے چاہئیں، جیسے کہ ماسک پہننا، گھر میں ایئر فلٹر کا استعمال کرنا اور ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنا۔

دہلی کی ہوا کورونا سے زیادہ جان لیوا

 ڈاکٹر گلیریا نے واضح طور پر کہا کہ دہلی کی فضائی آلودگی خاموشی سے لوگوں کی جان لے رہی ہے اور یہ کووڈ۔ 19 سے زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر گلیریا کے مطابق دہلی کے اسپتالوں میں سانس کی تکلیف، شدید کھانسی اور دمہ نیز سی او پی ڈی جیسی دائمی پھیپھڑوں کی بیماریوں کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہربار ہوا کا معیار خراب ہونے پر سانس  سے متعلق کیسوں میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ یہ کیس عام طور پر آلودگی کی سطح بڑھنے کے4 سے 6 دن بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ نوجوان اور صحت مند لوگ بھی اب مسلسل کھانسی، سینے میں جکڑن اور سانس کی پرشانی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ صرف اور صرف دہلی کی زہریلی ہوا ہے۔

آلودہ ہوا شوگر اور بلڈ پریشر بڑھا رہی ہے

ڈاکٹر گلیریا کا کہنا ہے کہ آلودگی نہ صرف پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ خون تک پہنچ کر جسم کو اندرونی طور پر بھی نقصان پہنچاتی ہے۔پی ایم 2.5  جیسے ذرات خون میں داخل ہوتے ہیں اور سوزش میں اضافہ کرتے ہیں، بلڈ پریشر اور شوگر کی سطح کو بڑھاتے ہیں اور کولیسٹرول کو متاثر کرتے ہیں۔ فضائی آلودگی ایک خاموش قاتل ہے، جس نے 2021 میں دنیا بھر میں 8 ملین سے زیادہ لوگوں کی جانیں لیں، جو کہ کووڈ سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی بھی موت کے سرٹیفکیٹ پر ’فضائی آلودگی‘ کا ذکر نہیں ہے، لیکن یہی موجودہ بیماریوں کو موت کی حد تک بڑھا دیتا ہے۔

توجہ کے ارتکاز کی کمی کا سبب بھی ہوا کی آلودگی

آلودگی دماغی صحت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لوگ تھکاوٹ، سستی، موڈ ڈاؤن اور ارتکاز کی کمی جیسے مسائل بتانے لگے ہیں۔ یہ کلاسک برین فوگ نہیں ہے لیکن یہ واضح ہے کہ لوگ توجہ کے ارتکاز کی کمی اور توانائی کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر گلیریا نے کہا کہ زیادہ خطرہ بچوں کوہے۔ بچے تیز سانس لیتے ہیں، باہر کھیلتے ہیں اور زمینی سطح کی آلودگی کا سب سے زیادہ سامنا کرتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے پھیپھڑوں کی نشوونما رک جاتی ہے۔ دہلی میں پرورش پانے والے بچوں کے پھیپھڑوں کی صلاحیت صاف ستھرے شہروں کے بچوں کی نسبت کم رہتی ہے۔ یہ نقصان مستقل ہوسکتا ہے۔