ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل کے وزیراعظم کا غزہ میں جنگ برھانے کا منصوبہ کابینہ میں زیر بحث

 Gaza War, City42, escalation in Gaza, Prime Minister Netanyahu, City42
کیپشن: اسرائیل غزہ میں حماس کے خلاف جنگ کا نیا مرحلہ شروع کرنے جا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے اپنے پبلک میان میں تصدیق کی کہ وہ جنگ روکنے کے مطالبات کو مکمل نظر انداز کر کے مزید جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  نیتن یاہو  نے کہا ہے  کہ کابینہ آج شام غزہ میں جنگ کے 'اگلے مرحلے' پر  فیصلہ کرے گی: انہوں نے کہا 'جنگوں میں  فیصلے پر پہنچنا ہوتا ہے، ہمارا فیصلہ فتح' ہے۔
گزشتہ کچھ روز سے  اسرائیل میں آئی ڈی ایف کی غزہ میں پیش قدمی اور وسیع پیمانہ پر جنگ کی تیاری کی خبریں آ رہی تھیں۔ اس کے بعد ریزروسٹ فوجیوں کو کال کئے جانے کی خبریں آئیں، آج آئی ڈی ایف کے چیف نے رسمی اطلاع دی کہ بڑی جنگی کارروائی کے لئے دسیوں ہزار ریزروسٹ فوجیوں کو طلب کیا گیا ہے، اس کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو نے بتایا کہ آج ان کی اتحادی حکومت کی کابینہ غزہ مین کسی بڑی جنگی کارروائی کے منصوبہ پر غور کر رہی ہے۔ 

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو  نے کہا کہ غزہ میں فوجی مہم "حماس کو شکست دینے کے لیے" ڈیزائن کی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں اسرائیل کے یومِ آزادی کی تقریب مین تقریر کرتے ہوئے نیتن یاہو نے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ غزہ میں جنگ کا بنیادی مقصد 7 اکتوبر کو حماس کے یرغمال بنائے ہوئے اسرائیلیوں کی واپسی نہیں ، بنیادی مقصد حماس کی تباہی ہے۔ نیتن یاہو کے اس سفاک بیان پر اسرائیل میں یرغمالیوں کے لواحقین نے بہت مذمت کی لیکن نیتن یاہو کی جنگ کو بڑھانے کی  سرگرمی بدستور جاری رہی۔

ٹائمز آف اسرائیل نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکام نے بارہا بتایا ہے کہ اس کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے اسرائیل کی شرائط قبول کرے۔

اپنے ذاتی ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک مختصر تقریر کی ویڈیو میں، نیتن یاہو نے آج کہا  کہ اس منصوبے کے مراحل ہیں اور کابینہ آج شام اگلے مرحلے پر بات کرے گی۔ نیتن یاہو نے کہا، "ہم دو مشنوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، ایک، اپنے یرغمالیوں کو واپس لانا، دوسرا حماس کو شکست دینا۔ حماس وہاں (غزہ میں) نہیں رہے گی، آپ کو یہ سمجھنا ہوگا۔"

"جنگوں میں آپ ایک فیصلے پر پہنچتے ہیں - فتح،" نیتن یاہو نے  میز پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔ نیتن یاہو نے اس تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہ وہ  کسی سیاسی فائدے کے لیے جنگ کر رہے ہیں، کہا کہ حماس اور حزب اللہ کو اسرائیل کی سرحدوں پر  موجود رہنے دینے سے انکار  کرنا سیاسی نہیں ہے۔

نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ (جنگ کے مخالفوں کی طرف سے)  کال اپ آرڈرز کو مسترد کرنے کی  اپیلیں بند ہونی چاہئیں، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے حماس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم غزہ میں مکمل فتح حاصل کریں گے۔ "فتح یرغمالیوں کو لے آئے گی۔"

یرغمالیوں کے اہل خانہ نے اس طرح کے دعووں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، یہ دلیل دی کہ فوجی مہم بہت سے یرغمالیوں کی ہلاکتوں کا باعث بنی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

حوثیوں کے بارے میں، جنہوں نے آج صبح بین گوریون ہوائی اڈے کو میزائل سے نشانہ بنایا، نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل یمنی گروپ کے خلاف کارروائی کرے گا۔ "ہم نے ماضی میں بھی ان کے خلاف آپریشن کیا اور آئندہ بھی کریں گے"۔