ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت میں مسلمانوں پر ظلم ؛ او آئی سی کا سخت تشویش کا اظہار

بھارت میں مسلمانوں پر ظلم ؛ او آئی سی کا سخت تشویش کا اظہار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:او آئی سی انسانی حقوق کمیشن نے بھارت میں مسلمانوں پر ظلم پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

انسانی حقوق کمیشن کی ایگریکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ناورا  رشد کے دفتر سے اعلامیہ جاری کیا گیا ، او آئی سی کمیشن نے اعلامیہ میں کہابھارتی مسلمانوں کے خلاف نفرت پرمبنی جرائم میں خوفناک اضافہ ہوا ہے-بھارتی انتہاپسند ان واقعات کو ہوا دے رہےہیں۔پیلگام کے بعد ان واقعات میں بہت اضافہ ہوا ہے، بھارت کے مختلف حصوں پر مسلمانوں کوقربانی کا بکرا بنانے پر شدیدتحفظات ہیں،20 کروڑ مسلمانوں کا تحفظ بھارتی حکومت کی عالمی ذمہ داری ہے ، اسلاموفوبیا کے خلاف بھارتی حکومت اقدامات کرے،عالمی برادری اور اقوام متحدہ  بھارت پر زور ڈالے،بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے سے باز رہے،بھارت مقبوضہ کشمیر میں تمام سیاسی قیدیوں کورہاکرے-بھارت مقبوضہ کشمیرمیں اجتمائی سزاوں سے باز رہے۔

او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ کا بھی سیکورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار

او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ نے جنوبی ایشیا میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہےپاک بھارت تناو کے تناظر میں او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ نے خصوصی بیان جاری کر دیا او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تحمل اور فوری مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہیں,او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ اختلافات کو پرامن ذرائع سے، بین الاقوامی قوانین و اقوام متحدہ منشور کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے, تاکہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے, او آئی سی نے دہشت گردی کی ہر شکل و قسم کی مذمت کے اپنے اصولی اور مستقل مؤقف کو دہراتا ہے,اس ضمن میں او آئی سی کے اسلامی سربراہی اجلاس اور وزرائے خارجہ کونسل کی قراردادوں کا حوالہ دیتا ہے,ان میں جموں و کشمیر کے مسئلے پر تنظیم کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا, بین الاقوامی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعے کے پرامن حل کے لیے کوششیں تیز کرے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ذکر کیا گیا ہے,

او آئی سی نے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کا حل طلب مسئلہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ایک بنیادی چیلنج ہے,مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے مستقل عزم کی اہمیت پر زور دیتے ہیں,