ملک اشرف : قتل کے مقدمہ کے ملزم کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت ،غیر قانونی حراست میں رکھنے پر تفتیشی سب انسپکٹر کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی رپورٹ ہائیکورٹ پیش کردی گئی ، عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی نے قتل کیس کے ملزم عبدالجبار عرف بہادر کی جانب سے بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست ضمانت پر سماعت کی ،دورانِ سماعت ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ، ایس پی انویسٹیگیشن شیخوپورہ محمد عباس چدھڑ دیگر پولیس افسران ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر ام البنین کے ہمراہ پیش ہوئے۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے ڈی پی او شیخوپورہ کی جانب سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو غیر قانونی حراست میں رکھنے والے تفتیشی سب انسپکٹر محمد عباس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایف آئی آر عدالت میں پیش کردی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعلقہ افسر کے خلاف محکمانہ انکوائری بھی جاری ہے۔جسٹس سید شہباز علی رضوی نے ڈی پی او بلال ظفر شیخ سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے اس معاملے کا خود جائزہ لیا ہے؟ اس پر ڈی پی او بلال ظفر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کو غیر قانونی حراست میں رکھنا ثابت ہوا ہے، اسی بنیاد پر تفتیشی افسر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور محکمانہ کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر کی جانب سے کورٹ میں پہلے بتایا گیا تھا کہ سولہ اپریل کو ملزم کی گرفتاری مطلوب نہیں تھی، جبکہ ریکارڈ کے مطابق ملزم عدالت میں سرنڈر ہوا اور اس حوالے سے عدالتی حکم موجود تھا۔
وکیلِ مدعی مقدمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کی بدنیتی اور پولیس سے ساز باز کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں سرنڈر کرنے کے باوجود پانچ مئی تک ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی مقام پر اسے چیلنج کیا گیا، جس سے معاملے کی نوعیت واضح ہوتی ہے۔
وکیل مدعی نے مزید استدعا کی کہ اگر پولیس کی بدنیتی ثابت بھی ہو جائے تو اس کا فائدہ ملزم کو نہیں دیا جاسکتا کیونکہ مقدمہ قتل کا ہے اور وقوعہ کے دو چشم دید گواہ موجود ہیں، لہٰذا ملزم ضمانت کا حقدار نہیں۔دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم سے کیا ریکوری ہوئی؟ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم سے پستول برآمد ہوا ہے۔ عدالت کے سوال پر کہ تفتیش میں کیا پیش رفت ہے، خاتون ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ملزم تفتیش میں قصوروار پایا گیا ہے۔
وکیل صفائی نے برآمدگی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریکوری تصدیق شدہ نہیں، تفتیشی افسر کے دستخط موجود نہیں اور نہ ہی کسی آزاد گواہ کے دستخط شامل ہیں۔ اس پر خاتون پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ پولیس میمو میں گواہوں کے نام درج ہیں۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ وقوعہ کے دو چشم دید گواہ موجود ہیں۔فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مرحلے پر ملزم کو ضمانت کا فائدہ نہیں دیا جاسکتا، اور ملزم عبدالجبار عرف بہادر کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت خارج کردی گئی۔