ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیتن یاہو بھی ڈیپ سٹیٹ کے ظلم کا شکار

نیتن یاہو بھی ڈیپ سٹیٹ کے ظلم کا شکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: ایک جیسے طرز سیاست کا  تیسرا کھلاڑی بھی "ڈیپ سٹیٹ"کا ہی وِکٹم نکلا" ،ڈیپ سٹیٹ کا شکار" ہوئے، اب  دنیا کو اب چوتھے کھلاڑی کے اس انکشاف کا انتظار کرنا چاہئے کہ "ڈیپ سٹیٹ " اس کی دشمن ہے۔ 

اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی بیگم سارہ نیتن یاہو نے امریکہ کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت حامی نیوز آؤٹ لیٹ فاکس نیوز کو بتایا کہ 'ڈیپ سٹیٹ' ان کے شوہر پرائم منسٹر نیتن یاہو  کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسلسل تصادم، تشدد اور تسلط کو اپنی سیاست کے ہتھیار بنانے والے، کئی سالوں سے اسرائیل کے اقتدار پر قابض وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی اہلیہ سارا نیتن یاہو  کا  یہ دعویٰ  فوکس نیوز میں شائع ہوا ہے کہ "غیر ملکی مفادات کی حمایت یافتہ بنیاد پرست اشرافیہ"  اسرائیل میں جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے عدالتوں اور میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں.

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل میں ایک نام نہاد "ڈیپ سٹیٹ" ان کے شوہر کو کمزور کرنے کے لیے کام کر رہی ہے.  سارا نے دراصل  ایسی ہی قوتوں کی طرف  اشارہ کیا جن پر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بار ہا  الزام لگایا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "اپنے سوا کسی کو نظر نہ آنے والی" ان قوتوں کو امریکہ کی "ڈیپ سٹیٹ" قرار دیا تھا، ٹرمپ نے  2020 کا صدارتی الیکشن ہار جانے کے بعد بھی ڈیپ سٹیٹ پر ہی الزام لگایا تھا کہ اس نے گہری سازش کر کے انہیں وائٹ ہاؤس سے باہر رکھا ہے۔ اب دوسرا الیکشن جیتنے کے بعد ٹرمپ کئی بار اس نام نہاد ڈیپ سٹیٹ کا ذکر کر چکے ہیں۔

 ٹرمپ اور نیتن یاہو  کے ہی طرزِ سیاست کے مالک پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے وزیراعظم بننے کے چار سال بعد پاکستان کو مہیب مسائل میں پھنسانے کے ساتھ اپنی حکومت کو بھی مکمل ناکامی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا تو انہوں نے بھی پاکستان کی "ڈیپ سٹیٹ" کو ہی اپنے اقتدار کی دشمن قرار دیا تھا۔ عمران خان تو ڈیپ سٹیٹ کے خلاف عوامی مہم ہی چلانے نکل پڑے تھے، اس دوران انہیں ان کے وزارتِ عظمیٰ کے دوران جرائم کے سبب جیل نہ جانا پڑتا تو یقیناً وہ "ڈیپ سٹیٹ" کا زمین کی پاتال میں  گھس کر قلع قمع کر دیتے۔

دنیا کو "ڈیپ" کے جس چوتھے وکٹم کے سامنے آنے کی توقع رکھنا چاہئے  اسے سابق وزیرخارجہ  بلاول بھٹو  نے منگل کے روز نیویارک میں نیوز کانفرنس کے دوران  نیتن یاہو کی سستی نقل قرار دیا، یہ انڈیا کے تیسری مرتبہ وزارت عظمی پر مسلط نریندر مودی ہیں جن کی تصادم، تشدد اور تسلط کی تمام پالیسیاں ان کی سیاست کو انجام سے دوچار کرنے والی ہیں، انہیں بھارت میں اب تک ریاستی اداروں کی مکمل معاونت حاصل رہی لیکن وہ عوام میں غیر مقبول ہوتے گئے،  2024 میں لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوئے لیکن دوسری پارٹی کو ساتھ ملا کر حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے، اب ان سے حکومت چل نہیں رہی اور  بہار میں ریاستی الیکشن کا سامنا ہے۔ نریندر مودی کو  انڈیا کے اندر ان کی تصادم، تشدد اور تسلط کی پالیسیوں کے ساتھ  معاشی سرگرمی بڑھانے میں ناکامی، غربت متانے میں ناکامی اور حتیٰ کہ پاکستان کے ساتھ تصادم میں شرم ناک ناکامی  کا سامنا ہے۔ انہیں اب تک تو "ڈیپ سٹیٹ" سے کوئی شکایت نہیں لیکن اپنے دوسرے تین معاصر ہم نفس سیاستدانوں کی طرح جلد ہی انہیں بھی بند گلی کے آخری سرے پر پہنچ کر یہ کہنا پڑے گا کہ "انڈیا کی ڈیپ سٹیٹ مجھے ناکام بنا رہی ہے" ۔

نام نہاد ڈیپ سٹیٹ کے تیسرے  وکٹم ہونے کا دعویٰ بیوی سے کروانے والے نیتن یاہو کو دراصل اسرائیل کی سپریم کورٹ، اعتدال پسند  اور بائین بازو کی سیاسی پارٹیوں، سول سوسائٹی کے اداروں، سماجی شخصیات، میڈیا کی سخت تنقید اور مخالفت کا سامنا  ہے اور انہین اقتدار کو بظاہر کوئی چیلمج نہ ہونے کے باوجود  برقرار رہنے میں سخت دشواری کا سامنا ہے کیونکہ ان کے پاس ڈیلیور کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔

لارا ٹرمپ کے ساتھ ہفتے کے روز فاکس نیوز کے "مائی ویو" پر نمودار ہوتے ہوئے، نیتن یاہو  کی بیگم سارا نے الزام لگایا کہ "دونوں رہنماؤں"  کو اس بات سے ستایا جا رہا ہے جسے انہوں نے "چھوٹی بنیاد پرست بائیں بازو کی اشرافیہ"  کے طور پر بیان کیا ہے_ جنہیں سارا کے بقول بیرونی ممالک اور دیگر کی طرف سے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے" جو "اہم اداروں میں بااثر عہدوں پر فائز ہیں۔"

فاکس نیوز کے شو میں سارا نیتن یاہو کے ساتھ شریک ہونے والی لارا ٹرمپ صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ کی اہلیہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "یہ لوگ جمہوری طور پر منتخب حکومت کو گرانے کے لیے عدالتی نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں۔" "انہیں پرواہ نہیں ہے کہ وہ جمہوریت یا عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔"

سارا نے ٹرمپ اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف قائم قانونی مقدمات کے درمیان براہ راست موازنہ کرتے ہوئے،  دعوی کیا: "انہوں نے میرے شوہر اور خاندان کے ساتھ وہی مضحکہ خیز کام کیے، مضحکہ خیز تحقیقات اور جھوٹ سے بھرے الزامات لائے۔"

سارا  نے دعویٰ کیا کہ ’’یہ مقدمات اب عدالت میں گر رہے ہیں کیونکہ ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘‘

"قانونی مقدمات" کے ضمن میں پاکستان سے "ڈیپ سٹیٹ کا وکٹم" ہونے کے دعویدار عمران خان اس لحاظ سے بدقسمت ہیں کہ ان کے مقدمات ٹرمپ اور نیتن یاہو سے پہلے منطقی انجام کو پہنچ رہے ہیں اور انہیں طویل عرصہ جیل میں رہنا پڑ رہا ہے۔ عمران خان کے ساتھ کل منگل کے روز اڈیالہ جیل میں ملاقات کر کے آنے والے ان کے ساتھیوں نے بتایا تھا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ "لندن پلان" نے  ان کے ساتھ سب کچھ کروایا، وہ اپنی ہی برپا کی ہوئی 9 مئی 2023 کی فوج پر حملوں کی مہم کو بھی "لندن پلان" قرار دیتے ہیں اور اپنی حکومت کی  2022 میں تحریک عدم اعتماد کے  دوران قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت سے محرومی کو بھی ڈیپ سٹیٹ ہی کی کارفرمائی قرار دیتے ہیں۔ نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح عمران خان کو بھی عدلیہ سے شکایت رہی کہ وہ انہیں حکومت نہیں کرنے دے رہی۔

فاکس نیوز کے  ساتھ انٹرویو میں سارا نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے شوہر نے یہاں تک درخواست کی تھی کہ ان کے مقدمے کی سماعت ٹیلی ویژن پر کی جائے لیکن اس سے انکار کر دیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ "لوگ اب بھی "ریاست کی گہری کوششوں" کے باوجود  (نیتن یاہو کے خلاف)مقدمات کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔"

وزیر اعظم نیتن یاہو پر بدعنوانی کے تین مقدمات چل رہے ہیں اور ان کو  میڈیا کے طاقتور گروپ  کو فوائد کے ذریعے پریس کوریج کو غیر قانونی طور پر متاثر کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ ارب پتی مخیر حضرات سے تحائف اور فوائد حاصل کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

عمران خان نے بھی اپنی حکومت کے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے نتیجہ میں خاتمہ کو  امریکہ اور پاکستان دونوں کی ڈیپ سٹیٹ کا مشترکہ  منصوبہ قرار دیا تھا، اس کے لئے انہوں نے امریکہ میں پاکستانی سفارتکار کے اسلام آباد بھیجے گئے ایک معمول کے سفارتی مکتوب کو اپنی مرضی کا معنی عطا کر کے پبلک کے سامنے پیش کیا اور بعد میں خفیہ سرکاری دستاویز کو پبلک کے سامنے لانے کے مقدمہ کا سامنا کیا، خفیہ سرکاری دستاویزات کو پبلک کے سامنے لانے کے سنگین الزامات اور  مقدمات کا نیتن یاہو کو بھی سامنا ہے اور ان کے امریکی دوست ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی سامنا رہا ہے۔

Caption عمران خان  2022 میں  اسلام آباد میں ایک خفیہ سرکاری دستاویز کی کاپی  اپنے حامیوں کو دکھاتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ ان کی حکومت ختم کرنے کے لئے امریکہ اور پاکستان کی "اسٹیبلشمنٹ" سازش کر رہی ہیں۔

 عمران خان کو امریکہ  کی نام نہاد ڈیپ سٹیٹ اور سابق صدر جو بائیڈن کی ڈیموکریٹ حکومت سے تو شکایت ہے کہ انہوں نے ان کی حکومت گرائی لیکن اس کے برعکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کا گہرا تعلق بتایا جاتا ہے۔ 

Caption   بائیس جولائی  2019 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس میں اوول آفس میں ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان۔

نیتن یاہو غلط کام کرنے کی تردید کرتے ہیں اور بغیر ثبوت کے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ الزامات پولیس اور ریاستی استغاثہ کی قیادت میں سیاسی بغاوت  کی کوشش میں گھڑے گئے تھے۔ عین یہی مؤقف پاکستان میں عمران خان اپنے خلاف بنے مقدمات کے متعلق پیش کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کئے، ان پر مقدمات  پولیس اور ریاستی استغاثہ کی قیادت میں سیاسی بغاوت کی کوشش میں گھڑے گئے تھے۔

Captionامریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ (بائیں) 1 دسمبر 2024 کو فلوریڈا کے ٹرمپ انٹرنیشنل گالف کورس میں سارہ نیتن یاہو اور یائر نیتن یاہو کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔ (Yair Netanyahu/X)

سارہ نیتن یاہو نے میڈیا کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ان کے خاندان کو مسلسل نشانہ بنایا ہے۔ "میڈیا بہت شیطانی ہے، ہم پر بار بار حملہ کر رہا ہے،" سارا نے کہا۔

اسرائیل کی لیڈنگ نیوز آؤٹ لیٹ  ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ سارہ نیتن یاہو نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے شوہر کے خلاف سازش کرنے کا الزام کسی "ڈیپ سٹیٹ" پر لگایا ہو۔ اپریل میں، اس نے ہنگری کے سرکاری دورے کے دوران دائیں بازو کے ہنگری کے آؤٹ لیٹ مینڈینر کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھی اسی طرح کے تبصرے کیے تھے۔

سارا نیتن یاہو کے ساتھ خود بنجمن نیتن یاہو بھی جب انہیں موقع ملے، اپنے حامیوں کو یہ ضرور بتاتے ہیں کہ ان کے مسائل ان کی ناکامیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ "ڈیپ سٹیٹ" کی سازش کی وجہ سے ہیں۔

 عمران خان اور ان کے متعلقین کو "ڈیپ سٹیٹ" کو اپنے مصائب کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لئے پاکستان سے باہر اور پاکستان کے اندر کسی خاص موقع کا انتظار نہیں کرنا پڑتا، عمران خان کی وزارت عظمیٰ ختم ہونے سے اب تک یہ ان کا روزانہ کا لازمی کام ہے۔

 وزیر اعظم نیتن یاہو نے مارچ میں کنیست  Knesset میں حزب اختلاف کے قانون سازوں سے کہا کہ "جمہوریت خطرے میں نہیں ہے؛ بیوروکریٹس کی حکمرانی خطرے میں ہے۔ ڈیپ سٹیٹ خطرے میں ہے،"  جب نیتن یاہو اسے الزام لگاتے ہیں تو صورتحال اس کے برعکس ہوتی ہے کہ خود ان پر مسلسل یہ الزام ہے کہ وہ اور ان کی حکومت منظم طریقے سے قانون کی حکمرانی کو کمزور کر رہی ہے۔

نیتن یاہو نے "افسروں کی ایک چھوٹی سی جماعت" کے خلاف تنقید کی جو اس نے الزام لگایا کہ وہ منتخب حکومت کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

ٹائمز آف اسرائیل نے سرا نیتن یاہو کی "ڈیپ سٹیٹ" پر حالیہ لعن طعن کے متعلق رپورٹ میں یاد دلایا کہ نیتن یاہو نے مارچ میں ٹویٹ کیا تھا کہ "امریکہ اور اسرائیل میں، جب ایک مضبوط دائیں بازو کا رہنما الیکشن جیتتا ہے، تو بائیں بازو کی ڈیپ اسٹیٹ لوگوں کی مرضی کو ناکام بنانے کے لیے نظام انصاف کو ہتھیار بناتی ہے۔" اس کے بعد اس نے ان دعوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کیا۔

نیتن یاہو کے سب سے بڑے بیٹے یائیو نیتن یاہو نے بھی اپنے والد کے خلاف بغاوت کی کوششوں میں ملوث ہونے کے ریاستی اداروں کے خلاف بارہا غیر تائید شدہ الزامات عائد کیے ہیں۔