ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

20 نومولود بچوں کی ہلاکت ؛وزیر اعلی مریم نواز کا ڈی ایچ کیو پاکپتن کا دورہ؛ ایم ایس اور ای ای او گرفتار، ڈپٹی کمشنر کو چارج چھوڑنے کا حکم

کیا لوگ  ہسپتالوں میں مرنے کے لئے آتے ہیں؟ مریم نواز   کا اظہار برہمی

20 نومولود بچوں کی ہلاکت ؛وزیر اعلی مریم نواز کا ڈی ایچ کیو پاکپتن کا دورہ؛ ایم ایس اور ای ای او گرفتار، ڈپٹی کمشنر کو چارج چھوڑنے کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : پنجا ب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے  ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال پاکپتن  کا سرپرائز دورہ کیا ،شکایات پر ایم ایس اور سی ای او  کو گرفتار جبکہ ڈپٹی کمشنر کو چارج چھوڑنے کا حکم دے دیا ، اوورچارجنگ پر پارکنگ کمپنی کے مالک اورانچارج کو گرفتار،  3 لیب ٹیکنیشن  فارغ ،3 پرائیویٹ  لیب سیل  کرنے اور ہسپتال کا ایکویپمنٹ آڈٹ کا حکم دے دیا .سائیوال سے  نیا ایم ایس بھی تعینات کردیا 

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال پاکپتن کے ایم ایس اور سی ای او کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر ایم ایس اور سی ای او، دونوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔وزيرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 20  نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کے معاملے کا نوٹس لیا تھا۔ جس میں آکسیجن  کی فراہمی معطل ہوئی تھی ۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال پاکپتن کا دورہ کیا ہے۔ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈپٹی کمشنر پاکپتن کو چارج چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ ادویات ہونے کے باوجود فارمیسی سے گٹھ جوڑ کے بعد باہر سے دوا منگوائی جا رہی تھی۔ ایم ایس اور دیگر ذمے داروں نے حقائق پر پردہ پوشی کی کوشش کی۔ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ سے 100 روپے پارکنگ فیس لینے کی بھی شکایات سامنے آئی تھیں۔

واضح ر ہے ایم ایس اور دیگر ذمہ داروں نے 20 نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کا ملبہ  پرائیویٹ ہسپتالوں اور دائیوں پر ڈال دیا تھا جبکہ ورثا کا الزام  تھا کہ ہسپتال میں آکسیجن  نہیں تھی جس کی وجہ سے  نوزائیدہ بچے زندہ نہیں رہ سکے ،  ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز کے ہسپتال پہنچنے پر  ایم ایس نے  اعتراف کیا کہ  انہوں نے آکسیجن کے لیے  ریکوزیشن  بھیجی ہوئی ہے ، اور آکسیجن ہسپتال میں  جلد آجائے گی جس نااہلی پر مریم نواز نے ایم ایس اور سی ای او کو فوری گرفتار کروا دیا  اس کے علاوہ مریم نواز نے اوورچارجنگ پر پارکنگ کمپنی کے مالک اور انچارج کو بھی گرفتار کروا دیا ، 3 لیب ٹیکنشنز کو فارغ کرنے اور  3 لیب کو سیل کرنے کا بھی حکم دے دیا  وزیر اعلیٰ مریم نواز نے سائیوال سے نیا ایم ایس بھی تعینات کردیا 

مریم نواز شریف نے کہا ذمہ داروں کو احساس دلانے کے لئے سخت فیصلے ضروری ہیں۔ مریضوں نے میڈیسن باہر سے منگوانے کی شکایت کے انبار لگا دئیے،دفاتر میں اے سی چلنے، وارڈز اور مریضوں کے اے سی بند ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ، سٹور میں موجود ہونے کے باوجود میڈیسن نہ ملنے پر سخت سرزنش کی ، سرکاری ہسپتالوں میں کوڈ ریڈ اور کوڈ بلیو سسٹم نافذ کرنے کا حکم  دیا،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہسپتالوں میں دوران ڈیوٹی ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف کے موبائل استعمال پر پابندی کے لئے اقدامات کی ہدایت کی ، 

 وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہسپتالوں میں رابطے کے لئے پیجر سسٹم نافذ کرنے کی ہدایت کی ،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہسپتال کے مختلف وارڈز،سٹور اور لیب کا معائنہ کیا،وارڈز میں زیر علاج مریضوں کے پاس جاکر فرداًفرداً مزاج پرسی کی،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہسپتال کی انتظار گاہ میں بیٹھے مریضوں اور اہل خانہ سے بات چیت کرکے ادویات کی فراہمی اور علاج کے بارے میں دریافت کیا

 وزیراعلیٰ مریم نواز  نے کہا تمام انکوائریز کے فیصلے ایک ہفتے کے اندر کیے جائیں۔ سٹور میں دوائیاں موجود ہیں اور پرچی پر لکھ کر میڈیسن باہر سے منگوائی جاتی ہیں۔100ارب روپے میڈیسن کے لئے دے رہے ہیں، عوام کو دوائی کیوں نہیں مل رہی؟۔ڈی ایچ کیو ہسپتال میں مفت ادویات کے لئے اعلان نہ ہونے پر برہمی کا  اظہار کیا کوشش کریں توحالات کا پتہ چل سکتا ہے، ہسپتال کے ایک راؤنڈ میں صورتحال سامنے آگئی۔ڈی ایچ کیو میں 90 فیصد مریض باہر سے ادویات منگوانے کی شکایت کررہے ہیں۔  ،درکار مشینری اور آلات پیک پڑے ہوئے ہیں لیکن استعمال میں نہیں لائے جاتے۔ہسپتالوں اور اداروں میں کام نہ کرنے والے قوم کے اصل ملزم ہیں۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی نہیں، خدمت کے احساس کا فقدان ہے۔کیا لوگ  ہسپتالوں میں مرنے کے لئے آتے ہیں؟۔ مجرمانہ غفلت پراللہ تعالیٰ کو بھی جواب دینا ہوگا۔ مجھ سے بچ سکتے ہیں اللہ کی پکڑ سے کیسے بچیں گے۔دوسروں کے بچوں کو اپنی نظر سے دیکھنا سیکھیں۔  
قتل کرنے کے لئے ہتھیار ضروری نہیں ہوتے، مجرمانہ غفلت بھی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔

انکوائری رپورٹ سامنے آگئی 

 انکوائری رپورٹ میں سامنے آیا کہ ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے ایم ایس اپنی انتظامی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے۔ہسپتال کے کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کی دیکھ بھال کے لئے مناسب وقت نہیں دے رہے،ہسپتال میں درکار آلات سٹور میں موجود ہیں، استعمال میں نہیں لائے گئے۔مریضوں کے علاج میں تاخیر کی وجہ کنسلٹنٹ، ڈاکٹروں اور عملے کی بے حسی ہے۔ماہر ڈاکٹر         ر ات کے وقت راؤنڈ نہیں لگاتے۔پیڈزانکوبیٹر موجود ہیں مگر فنکشنل نہیں۔ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن ہیلتھ کیئر کمیشن کے قواعدو ضوابط پوری طرح فالو نہیں کیے جارہے ہیں،ڈی ایچ کیو ہسپتال میں مریضوں کے لئے ایمرجنسی پروٹوکول پر عملدر آمد نہیں دیکھا گیا۔ڈی ایچ کیو ہسپتال کریٹیکل کا سٹاف ٹرین نہیں۔