پسند کی شادی کرنیوالاجوڑا عدالت پیش،جج کا اہم فیصلہ

پسند کی شادی کرنیوالاجوڑا عدالت پیش،جج کا اہم فیصلہ

(شاہین عتیق) بدقسمتی سےپاکستانی سماج میں پسندکی شادی کو اس قدرمعیوب سمجھا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کی پسند معلوم ہونے پر اچھے بھلے  رشتوں سے بھی انکارکردیا جاتا ہے،لاہور  میں ایڈیشنل سیشن جج معین کھوکھر نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی مہوش علی کو بیان کے بعد شوہر آصف کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ۔لڑکی اور لڑکے کو بحفاظت میں عدالت لایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں  ایڈیشنل سیشن جج معین کھوکھر کی عدالت میں فیکٹری ایریا کی مہوش اور آصف کو پیش کیا گیا،ایڈیشنل سیشن جج رانا معین کھوکھر نے مہوش علی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے چوہدری ارسلان ایڈووکیٹ پیش ہوئے،درخواست گزار کا کہنا تھا کہ آصف علی سے پسند کی شادی کی ہے،درخواست گزا نے استدعا کی والدین سے جان کو خطرہ ہے عدالت تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے۔

دونوں نے محبت کی شادی  والدین کی رضامندی کے خلاف کی تھی۔عدالت میں لڑکی مہوش نے بیان دیا کہ ہم نے شرعی طریقے سے شادی کی ہے ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔لڑکی نےبیان دیتے ہوئے کہا کہ شادی کے لئے والدین کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے ایک نہ سنی بلکہ شادی کسی اور جگہ کرنے لگے، ہم نے اپنی مرضی سے شادی کی، ہم بالغ ہیں اور اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرسکتے ہیں، بیانات سننے کے بعد عدالت نے لڑکی کو خاوند کے ساتھ جانے اور  فیکٹری ایریا پولیس کو حکم دیا کہ مہوش اور آصف کا تحفظ دیا فراہم کیا جائے۔

واضح رہے کہ اسلام میں بھی نکاح کے لئے  مرد و عورت دونوں کی رضامندی پہلی اور بنیادی شرط ہے، اگر فریقین رضامند نہ ہوں تو پورا خاندان  بھی راضی ہو تو  نکاح کی شرط پوری نہیں ہوتی، حدیث میں بھی ہے کہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔

ہمارے ملک میں اگر کو ئی لڑکی اور لڑکا  پسند کی شادی کرلیں تو  اُن کے ماں باپ ہی ان  کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں اور پھر  پسند کی شادی کرنے والا جوڑا تحفظ کیلئے  عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔