ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مغوی لڑکی کی بازیابی کیلئےدرخواست پرسماعت; عدالت کا ڈی پی او حافظ آباد کو لڑکی کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم

مغوی لڑکی کی بازیابی کیلئےدرخواست پرسماعت; عدالت کا ڈی پی او حافظ آباد کو لڑکی کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہورہائیکورٹ  میں مغوی لڑکی کی بازیابی کیلئےدرخواست پرسماعت ہوئی ، ڈی پی اوحافظ آبادعاطف نذیرنےلڑکی علینہ شوکت کوبازیاب کرکےعدالت پیشِ کردیا
عدالت  نے ڈی پی او حافظ آباد کوبازیاب ہونےوالی لڑکی کوتحفظ فراہم کرنےکاحکم دے دیا 
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے شہری شوکت علی کی درخواست پر سماعت کی،درخواستگزارنےبیٹی 24سالہ علینہ شوکت کی بازیابی کیلئے2022کو ہائیکورٹ سےرجوع کیا،ڈی پی او حافظ آباد عاطف نذیر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے ہمراہ پیش ہوئے،چیف جسٹس نے کہا آج کیس سماعت کے لئے مقرر نہیں تھا ، وکیل نہیں آیا ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی

چیف جسٹس کا درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کیا یہ آپ کی بیٹی ہے یا نہیں ؟یہ تو نہیں کہیں گے 2 نمبر بندے کو پیش کردیا گیا ،
درخواستگزارشوکت علی نے کہا جی یہ میری بیٹی ہے ،اب کیوں کہوں گا کہ یہ میری بیٹی نہیں ،  چیف جسٹس نے کہا آپ نے گزشتہ سماعت پر کہا تھا کہ اس کی تصویر وہ نہیں ،دکھ تو ہوتا جب بچے ایساکریں ، لیکن اسکامطلب یہ تو نہیں آپ انہیں ماننے سے انکار کردیں ، آپ کےسامنےآپ کی بچی کھڑی ہےاسکے2 بچے ہیں ۔
، علینہ شوکت  نے  عدالت میں بیان  دیا میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے
 درخواست گزار شوکت علی نے کہا اس نے چوری کی ہے، وہ واپس کردیں ۔
چیف جسٹس نے درخواست گزار سے کہا آپ نےغلط بیان دیا کہ اس کی عدالت میں پیش کی گئی تصویر جعلی ہے،بچوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں یہ تو نہیں آپ اس کو ماننے سے انکار کردیں ، بچی آپ کے سامنے خود کہہ رہی ہےکہ مرضی سے شادی کی ہے ، کیا اس کی زندگی کا خطرہ نہیں ہے
مغوی لڑکی  علینہ شوکت نے کہاوالدنےکہاتھااگر آپ قانون کیمطابق کیس جیت بھی گئےپھربھی نہیں چھوڑینگے ۔ 
چیف جسٹس نے لڑکی کے باپ سے کہا آپ اپنی بیٹی اور اسکےبچوں کوہاتھ نہیں لگائیں گے۔ڈی پی او سے مکالمہ کرتے ہوئے عدالت نے حکم دیا کہ آپ بازیاب ہونے والی لڑکی کو تحفظ فراہم کریں گے۔