احمد منصور: مودی راج کا ووٹر وار، ہندوتوا کا نیا ہتھیار، بہار میں مسلم ووٹرز کا منظم اخراج،مودی راج میں اقلیت ہونا سب سے بڑا جرم بن چکا ہے، بہار میں الیکشن سے قبل لاکھوں اقلیتی ووٹرز کو فہرست سے باہر کردیا گیا۔
ووٹر لسٹ سے مسلمانوں کا اخراج تیزی سے جاری ہے، جمہوری حق چھیننے کی خاموش مہم عروج پر ہے، ہندوتوا ایجنڈے کے تحت بہار میں ایس آئی آر کے نام پر ووٹر لسٹ کی چھانٹی کرتے ہوئے لاکھوں مسلمانوں، دلتوں اور غریبوں کو فہرست سے باہر کر دیا گیا۔
دی ٹریبیون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ’’ بہار میں مسلم اکثریتی اضلاع سے ووٹرز کے ناموں کا بڑے پیمانے پر اخراج‘‘ اقلیتی آبادی والے اضلاع میں ووٹر لسٹ سے ناموں کی غیر معمولی کٹوتی۔
دی ٹریبیون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے مطابق بہار کے 10 اضلاع میں سب سے زیادہ ووٹرز کو فہرست سے نکال دیا گیا ہے، مدھوبنی، مشرقی چمپارن، پورنیہ اور ستمرھی جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں ووٹر لسٹ سے ہزاروں نام غائب ہیں۔
اپوزیشن نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے ذریعے اقلیتوں اور غریبوں کو ووٹر لسٹ سے نکالا جا رہا ہے ,مدھوبنی میں 3,52,545 فارم جمع نہ ہونے پر ووٹرز کی ممکنہ فہرست سے اخراج ، مشرقی چمپارن میں 3,16,793، پورنیہ میں 2,73,920 اور ستمرھی میں 2,44,962 فارم واپس نہ آئے۔
الیکشن کمیشن نے اپنےمؤقف میں کہا کہ فارم کی عدم وصولی کا مطلب ووٹر لسٹ سے ممکنہ اخراج ہے، دیگر متاثرہ اضلاع میں پٹنہ، گیا، گوپال گنج، سارن، مظفرپور اور سمستی پور شامل ہیں، مجموعی طور پر 65 لاکھ سے زائد ووٹرز کو مردہ، منتقل شدہ یا دہری رجسٹریشن کی بنیاد پر نکالا گیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 7.24 کروڑ ووٹرز کے فارم موصول ہوئے، اعتراضات جمع کرانے کی آخری تاریخ یکم ستمبر ہے ,جمہوریت کا چولا، ہندوتوا کا کھیل , مودی راج میں الیکشن سے پہلے اقلیتوں کا صفایا معمول بن چکا ہے۔
مودی سرکار کا "سب کا ساتھ سب کا وکاس" صرف ایک سیاسی نعرہ , اصل میں مسلمانوں کا ووٹر لسٹ سے صفایا جاری ہے۔