ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائیوں سے متعلق اہم فیصلہ صادر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محض شوکاز نوٹس کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن قابل سماعت نہیں ہوتی۔
عدالت نے اپنے نوٹس میں کہا کہ شوکاز نوٹس کو حتمی حکم تصور نہیں کیا جا سکتا اور انکوائری کے ابتدائی مراحل میں عدالتی مداخلت قبل از وقت ہوتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ شوکاز نوٹس کے دوران ملازمین کو اپنے محکمے کے سامنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ پرانے شوکاز نوٹس واپس لے کر نئی انکوائری شروع کرنا قانون کے مطابق ہے اور اس عمل کو ایک ہی جرم پر دو بار سزا (ڈبل جیوپارڈی) قرار نہیں دیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ درخواست گزار پہلے نوٹسز کی واپسی کا فائدہ اٹھا کر بعد میں اس عمل کو چیلنج نہیں کر سکتے۔
جسٹس حسن نواز مخدوم نے جاوید علی شاہ اور دیگر کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے دونوں پٹیشنز کو قبل از وقت اور میرٹ پر پورا نہ اترنے کی بنیاد پر خارج کر دیا اور محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھے۔
عدالت نے محکمہ کو یہ بھی ہدایت دی کہ ملازمین کو متعلقہ فورم پر مکمل سماعت اور قانونی اعتراضات اٹھانے کا حق دیا جائے۔ یہ فیصلہ متروکہ وقف املاک کے ملازمین کی جانب سے اپنے خلاف جاری نئے شوکاز نوٹسز کو چیلنج کرنے کے تناظر میں آیا ہے۔