ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم حسینہ واجد نے کہا کہ وہ اقتدار کے لئے نہیں بلکہ جمہوریت اور اپنے عوام کیلئےوطن واپس جانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت میں قیام کے دوران شیخ مجیب الرحمن کی نامکمل خودنوشت اور جیل کی ڈائریاں بھی پڑھتی ہیں۔یہ تحریریں انہیں اس مقصد اور جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں ۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ دسمبر 2026 میں وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ WION کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی واپسی کسی ذاتی سیاسی واپسی یا اقتدار کے حصول کی کوشش نہیں بلکہ جمہوریت، آئینی حکمرانی اور عوام کے آزادانہ طور پر اپنی حکومت منتخب کرنے کے حق کی بحالی کی جدوجہد کا حصہ ہوگی۔ شیخ حسینہ نے کہا بھارت میں قیام کے دوران وہ بنگلہ دیش کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتی ہیں اور اپنے والد، بنگلہ دیش کے بانی اور سابق صدر شیخ مجیب الرحمن کی نامکمل خودنوشت ’’The Unfinished Memoirs‘‘ اور جیل کی ڈائری ’’The Prison Diaries‘‘ پڑھتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ تحریریں انہیں اس مقصد اور جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔
شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ ’’میں اپنی واپسی کو ذاتی سیاسی واپسی نہیں سمجھتی۔‘‘ ان کے مطابق وہ اپنے وطن واپس جاکر ان لاکھوں عوام اور عوامی لیگ کے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتی ہیں جن کے سیاسی حقوق اور آواز ان کے بقول موجودہ حالات میں محدود کردی گئی ہے۔ حسینہ نے کہا وہ ایک مستحکم، جمہوری اور آئینی بنگلہ دیش کی بحالی چاہتی ہیں۔ حسینہ نے واپسی کے ممکنہ خطرات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جان لینے کی کم از کم19کوششیں ہوچکی ہیں اور انہوں نے خاص طور پر 21اگست 2024 کے دستی بم حملے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق اس حملے میں 24افراد ہلاک اور 300ے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم نے اگست 2024 کی سیاسی ہلچل کے بارے میں اپنے مؤقف کو بھی دہرایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ طلبہ کی کوٹے کے خلاف تحریک کو سیاسی، انتہا پسند اور عسکریت پسند عناصر نے اپنے مقصد کیلئےاستعمال کیا اور یہ ایک منظم کارروائی میں تبدیل ہوگئی جس کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ یہ ان کا مؤقف ہے؛ موجودہ بنگلہ دیشی حکومت، طلبہ تحریک اور مخالف سیاسی حلقوں کی جانب سے اس انٹرویو میں اس دعوے پر کوئی جواب شامل نہیں ہے۔ حسینہ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری انتظامیہ نے سیاسی انتقام، اداروں کو کمزور کرنے، ذرائع ابلاغ کی آزادی محدود کرنے اور انتہا پسندی و فرقہ وارانہ سیاست کیلئے جگہ پیدا کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کرنے اور آزاد، منصفانہ اور جامع انتخابات کی راہ ہموار کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس انٹرویو میں نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ واپسی کے معاملے میں شیخ حسینہ کا مؤقف پہلے بھی سامنے آچکا ہے۔ جولائی میں انہوں نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کے بعض سینئر رہنما دسمبر کے آس پاس بنگلہ دیش واپس جاکر عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اگست میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ گرفتاری، جیل یا جان جانے کے خطرے کے باوجود وہ وطن واپس آئیں گی۔ حسینہ اس وقت بنگلہ دیش میں سنگین قانونی کارروائیوں کا سامنا کررہی ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے2024 کی تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف کارروائی سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ فروری 2026میں انہیں ڈھاکہ کے ایک سرکاری رہائشی منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق بدعنوانی کے2مقدمات میں مجموعی طور پر10سال قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ بنگلہ دیش کی حکومت بھارت سے حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے، جس پربھارتی وزارت خارجہ نے گزشتہ اپریل میں کہا تھا کہ حکومت ڈھاکہ کی حوالگی کی درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔