ویب ڈیسک: پنجاب میں دریائے راوی اور ستلج میں طغیانی برقرار ہے، جس کے باعث متعدد اضلاع میں خطرناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ خانیوال میں ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے مائی صفوراں حفاظتی بند توڑ دیا گیا، جس کے نتیجے میں کبیر والا کے 30 اور پیر محل کے 12 دیہات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے۔
عبدالحکیم کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ ہیڈ سدھنائی کی گنجائش ڈیڑھ لاکھ کیوسک ہے لیکن موجودہ صورتحال میں اس سے زائد پانی کا اخراج جاری ہے۔ بند توڑنے کے بعد ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور مقامی آبادی مشکلات کا شکار ہے۔
دریائے ستلج میں بھی پانی کی سطح بلند ہونے سے لودھراں اور بہاولپور کے تین حفاظتی بند ٹوٹ گئے۔ ادھر وہاڑی میں 65 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ تاندلیانوالہ کے 30 دیہات زیر آب آ گئے۔