سٹی42: بھارت اور پاکستان کے موسم کے محکموں نے ایک بار تو مون سون کی برسات کے ختم ہونے کے اعلانات کر دیئے، اب بتا رہے ہیں کہ "مون سون نے یو ٹرن لے لیا" اور بارشیں واپس آ رہی ہیں۔
بھارت کے میٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے سابق بیانات سے یوٹرن لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب اور ہریانہ میں بارش نے یوٹرن لے لیا ہےْ۔ بھارت میں ہریانہ اور پنجاب میں بارشوں کا نیا الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اور ہریانہ میں 6 اکتوبر کو شدید بارش کا امکان ہے۔ جس کے پیش نظر آئی ایم ڈی نے اورنج الرٹ جاری کیا ہے، ملک کے دیگر علاقوں میں بھی بارش کے قوی امکانات ہیں۔
پاکستان میں آج رات بارش کا کہاں کہاں امکان
میٹ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ بالائی اور وسطی خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار ،شمال مشرقی اور وسطی پنجاب کے ساتھ سندھ میں بھی آج رات بادل آئیں گے۔ کئی علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ملک کےدیگر علاقوں میں موسم خشک رہےگا تاہم گرمی کی شدت کم ہونے کا امکان ہے۔۔
شمالی بھارت میں بارش کی فورکاسٹ
بھارت کے میڈیا نے رپورٹ کیاہے کہ مون سون کے ختم ہونے کے بعد بھی ملک کے کئی علاقوں میں موسمی حالات غیر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ خاص طور پر پنجاب اور ہریانہ میں موسمیات محکمہ (آئی ایم ڈی) نے 6 اکتوبر کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے، جس کے مطابق ان علاقوں میں شدید بارش کی توقع ہے۔ 5 اور 7 اکتوبر کو ان علاقوں میں ییلو الرٹ رہے گا۔
بھارت کے شمالی علاقوں میں ہونے والی بارش پاکستان کے لئے اس لئے اہم ہے کہ ہماچل، پنجاب، کشمیر مین ہونے والی بارش کا پانی جمع ہو کر پاکستان آنے والے دریاؤں ستلج، چناب، راوی مین ہی آتا ہے۔
اس برسات کے دوران بھارت کی ان ریاستوں مین جتنی بارش ہوئی اس سے آنے والے سیلابوں نے پاکستان میں پنجاب کے وسیع علاقوں کو تاراج کیا۔
اب بھی پاکستان میں ڈیزاسٹر سے نمٹنے کے ادارے 5 اکتوبر سے دو تین دن کے دوران ہونے والی بارش پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور صوبہ پنجاب کی انتظامیہ بھی دریاؤں میں بھارت سے آنے والے پانی کے کسی غیر متوقع ریلے سے نمٹنے کی تیاری کئے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے سمندری علاقوں میں اس وقت دو لو پریشر سسٹم فعال ہیں۔ مغربی حصے میں واقع لو پریشر سسٹم کچھ کی خلیج اور شمال مشرقی عربی سمندر میں سرگرم ہے۔ یہ نظام اگلے 12 سے 24 گھنٹوں میں بحیرہ عرب میں پہنچ کر ڈپریشن کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس کا مرکز 22 ڈگری شمالی عرض البلد اور 68 ڈگری مشرقی طول البلد پر ہے اور اس کے گرد 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔ یہ سسٹم مغربی جنوب مغرب کی سمت بڑھتے ہوئے شمال مغربی عربی سمندر تک پہنچنے کا امکان رکھتا ہے۔
دوسرا لو پریشر سسٹم مغربی وسطی بنگال کی خلیج میں موجود ہے، جو اب ڈپریشن میں بدل چکا ہے۔ اس کا مرکز 15.5 ڈگری شمالی عرض البلد اور 86 ڈگری مشرقی طول البلد پر ہے، اور یہاں کے گرد 55 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ سسٹم بھی آنے والے دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا سبب بن سکتا ہے۔
اس موسمی صورتحال کا اثر بھارت کے کئی علاقوں پر محسوس کیا جائے گا۔ شمال مشرقی ہندوستان، مغربی بنگال، بہار، جھارکھنڈ، اوڈیشہ، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور چھتیس گڑھ میں مسلسل بارش کا امکان ہے۔ ساتھ ہی، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، گجرات، راجستھان، پنجاب، ہریانہ، دہلی اور اتر پردیش میں بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ شمالی ہند کے پہاڑی علاقوں میں بھی بارش اور خراب موسم دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ چھ اور سات اکتوبر کو یہ بارش کے امکانات اور بھی زیادہ بڑھ جائیں گے۔
مانسون کے جانے کے بعد یہ بارش کا یوٹرن ملک کے موسمی نمونوں میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے حالات میں زمین اور فصلوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔