سٹی42: بھارت میں نریندر مودی کی روزانہ اتنی بے عزتی ہوتی ہے کہ وہ خود کو پڑنے والی گالیوں کا حساب یاد رکھنے کی کوشش میں ہی الجھے رہتے ہیں، اپوزیشن گرینڈ الائنس کی پیڈر پرینکا گاندھی نے اس مسئلے کو لے کر عوام کے ناپسندیدہ وزیراعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ "وزارتِ بے عزتی" بنا دیں، جو ان کی آئے روز ہونے والی بے عزتی کا ریکارڈ رکھا کرے۔ پرینکا جی نے یہ مزے کا مشورہ بہار میں ریاستی اسمبلی کے الیکشن سے دو دن پہلے انتخابی مہم کے دوران اپنے حامی عوام سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔
پرینکا گاندھی نے طنزیہ اور استہزائیہ انداز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، وزیر اعظم فہرست بناتے رہتے ہیں کہ اس نے مجھے گالی دی، اس نے بے عزتی کی، وہ اپنا وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں؟ایک نئی اُپمان منترالے بنا دیں، یہ کام ’اپمان منترالے‘(وزارتِ بےعِزتی) کر دے گا۔
رینکا گاندھی کی یہ استہزائیہ تجویز سوشل میڈیا مین وائرل ہو رہی ہے اور بہت سے بھارتی شہری اس پر سنجدیگی سے اور زیادہ تر استہزایئہ انداز سے تبسرے کر رہے ہیں۔ اس بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ نریندر مودی کی بھارت میں عزت نہیں کی جا رہی اور بے عزتی تو بہت زیادہ کی جا رہی ہے۔
بہار میں پرینکا گاندھی کی الیکشن کیمپین
بہار میں انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ آج کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے ریاست کے انتٓخابی حلقوں سونبرسا اور لکھی سرائے میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرنے کے ساتھ ساتھ روس ڑا میں روڈ شو بھی کیا۔ اس دوران وہ بہار اسمبلی کے 6 نومبر اور 11 نومبر کو ہونے والے الیکشن کیلئے گرینڈ الائنس (مہاگٹھ بندھن) امیدواروں کی حمایت میں عوام سے ووٹ کی اپیل کرتی دکھائی دیں۔
آج صبح سونبرسا میں تو پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر انتہائی تلخ انداز میں حملہ کیا، جو کہ طنزیہ بھی تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں وزیر اعظم کو ایک مشورہ دینا چاہتی ہوں۔ ایک نئی وزارت بنا دیں ’اپمان منترالے‘۔ وہ (پی ایم مودی) فہرست بناتے رہتے ہیں کہ اس نے مجھے گالی دی، اس نے بے عزتی کی، وہ اپنا وقت ضائع کیوں کر رہے ہیں؟ یہ کام ’اپمان منترالے‘ کر دے گا۔ ان کا (پی ایم مودی کا) وقت ملک کے لیے کام کرنے میں، روزگار دینے میں لگنا چاہیے۔‘‘
بہار اب نریندر مودی-نتیش کمار کے جھانسے میں نہیں آنے والا
پرینکا گاندھی جب سونبرسا میں عوام سے خطاب کر رہی تھیں، تو لوگوں کی زبردست بھیڑ ان کے استقبال کے لیے موجود تھی۔ جب وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ناکامیوں اور عوام مخالف پالیسیوں کا تذکرہ رہی تھیں تو انھیں عوام کی زبردست حمایت بھی حاصل ہو رہی تھی۔ کچھ ایسا ہی نظارہ لکھی سرائے کے جلسہ میں بھی دیکھنے کو ملا۔ وہاں پرینکا گاندھی نے بلند آواز کے ساتھ کہا کہ ’’بہار اب نریندر مودی-نتیش کمار کے جھانسے میں نہیں آنے والا۔ ہر جھوٹ کا حساب دینا ہوگا، ہر ناانصافی کا جواب دینا ہوگا۔‘‘ انھوں نے اسٹیج سے ’بدلے گی سرکار، بدلے گا بہار‘ نعرہ بھی بلند کیا۔
روسڑا میں روڈ شو کے دوران لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر پرینکا گاندھی بہت خوش نظر آئیں۔ وہ جگہ جگہ لوگوں سے ہاتھ ملاتی اور بات کرتی ہوئی بھی دکھائی دیں۔ وہ کھلی چھت والی کار پر مہاگٹھ بندھن امیدوار کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں، جس کی کچھ تصویریں انھوں نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کیں۔ اس پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’’جس بہار کی محنت کش عوام اپنے خون پسینے سے پورے ملک کو سینچتی ہے، اسی بہار کے نوجوان آج روزگار کے لیے ترس رہے ہیں۔ پوری ریاست بے روزگاری، ہجرت اور پیپر لیک سے بے حال ہے۔‘‘
मोदी जी, एक 'अपमान मंत्रालय' बना दीजिए। pic.twitter.com/Gsl6kE5Y8I
— Congress (@INCIndia) November 3, 2025
پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’جنتا دل یو-بی جے پی کی بدتر حکمرانی نے بہاری عوام سے ان کا روزگار، ان کا حق سب چھین لیا ہے۔ ریاست کی عوام بہار اور حکومت دونوں بدلنے کے لیے تیار ہے۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس جنرل سکریٹری لکھتی ہیں کہ ’’بہار میں سمستی پور کے روسڑا میں روڈ شو کے دوران عوام کا جوش اس بات کا ثبوت ہے کہ بہار میں تبدیلی آنے جا رہی ہے۔‘‘