سٹی42: نیپال میں تمام کمیونسٹ پارٹیوں کے انضمام سے بھارت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
آٹھ کمیونسٹ پارٹیوں کا انظمام نیپال کی وولٹائل صورتحال میں ٹھہراؤ اور استحکام کا اہم فیکٹر بن کر ابھرا ہے، اس اہم ڈیویلپمنٹ سے لیکن نیپال کے پڑوسی ملک بھارت میں تشویش محسوس کی جا رہی ہے اور میڈیا نے نام نہاد جن زی کے ساتھ "کھیل ہو جانے" کا واویلا قبل از وقت ہی شروع کر دیا ہے۔
بھارت کے ایک اہم نیوز آؤٹ لیٹ کی ویب سائٹ پر نیپال میں کمیونسٹ پارٹیوں کے انضمام کی امید افزا خبر پر یہ ہیڈ لائن بنائی گئی، "کیا نیپال میں ’جین-زی‘ کے ساتھ ہو جائے گا کھیل؟ نیپال میں 8 کمیونسٹ پارٹیوں کا ہوا انضمام"
نیپال میں کمیونسٹ کارکن عرصہ سے کمیونسٹ نظریات کی تشریح، عملی سیاست کے راستوں اور نیپال کے لئے بہتر پالیسیوں کے متعلق اختلافات کے سبب آٹھ کمیونسٹ پارٹیوں مین تقسیم ہو چکے ہیں۔ ان تمام پارٹیوں کی سیاسی قوت منقسم ہونے کی وجہ سے ان کا نیپال کی سیاست میں کردار کم ہوا اور بھارت نواز سیاسی گروہوں کو یقویت ملی۔ اب گزشتہ ماہ کے خونیں انقلاب کے بعد جب نیپال میں ایک غیر سیاسی عبوری حکومت نئے الیکشن کے لئے تیاریاں کر رہی ہے، نیپال کے تمام کمیونسٹ گروپوں کے اتحاد اور باہم ضم ہو جانے کے عمل نے بھارت میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
کٹھمنڈو سے اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق نیپال کے کمیونسٹ رہنما سابق وزیر اعظم پشپ کمل دہل پرچنڈ اور کمیونسٹ رہنما سابق وزیر اعظم مادھو کمار نئی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ ریاستی سطح پر ووٹوں کے بکھراؤ کو دیکھتے ہوئے پرچنڈ نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
بھارت کا میڈیا اپنی خبروں اور تجزیوں میں یہ تاثر دے رہا ہے کہ چند ہفتے پہلے نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں پرتشدد احتجاج کے ذریعہ حکومت کے بو دست و پا کر کے عملاً انقلاب برپا کر دینے والے نوجوان "جین زی" کمیونسٹوں کے باہم اتحاد سے کمزور ہوں گے۔ بھارت کا میڈیا اس بنیادی فیکٹر کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے کہ جین زی کے ڈھیلے ڈھالے نام سے ہونے والے احتجاجوں میں بھاری اکثریت بائیں بازو کے رجحانات رکھنے والے نوجوانوں اور کمیونسٹ سیاسی کارکنوں کی ہی رہی ہے۔ اس انقلاب مین ابھر کر آگے آنے والے نوجوانوں کی کوئی خاص سیاسی تنظیم نہیں تھی نہ ہی انہوں نے بعد میں کوئی سیاسی پارٹی بنائی ہے۔
نیپال کے آئندہ انتخاب میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لئے کمیونسٹوں نے کمیونسٹ لیڈر اور سابق وزیر اعظم پشپ کمل دہل پرچنڈ کی قیادت میں ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور نیپال کی 8 کمیونسٹ پارٹیوں کا انضمام ہو گیا ہے۔ انضمام کے بعد جو نئی پارٹی بنی ہے، اس کا نام کمیونسٹ پارٹی نیپال (سماج وادی) رکھا گیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزرائے اعظم پرچنڈ اور مادھو کمار اس نئی پارٹی کی قیادت کریں گے۔
چند ماہ میں ہونے والے کروشیل الیکشن میں کمیونسٹ ووٹوں کی تقسیم کے خدشات کو دیکھتے ہوئے تمام کمیونسٹ پارٹیوں کے کارکنوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ نظریاتی اختلافات کو بعد میں دیکھیں گے، پہلے الیکشن کو مل جل کر دیکھیں۔
نیپال میں کسی سال تک تقسیم در تقسیم کے بعد اب کمیونسٹ پارٹیوں کا انضمام ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی (سنٹر)، انٹگریٹیڈ سوشلسٹ پارٹی، نیپال سوشلسٹ پارٹی، جَن سوشلسٹ، سی پی این (سوشلسٹ)، سی پی این (ماؤ پرست سوشلسٹ) اور سی پی این (کمیونسٹ) نے ایک ہی تنظیم میں متحد ہو جانےکا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے ایسی پارٹی وجود مین آ گئی ہے جو کہنہ مشق اور نوجوان، کئی جنریشنوں کے کارکنوں، دانشوروں اور مفکروں کا سب سے بڑا پلیٹ فارم بن گئی ہے۔
اس اتحاد کے بعد وجود میں آنے والی پارٹی آنے والے الیکشن میں عوام کی توجہ کا اہم ترین مرکز ہو گی۔ نیپال میں کمیونسٹ تحریک کےمضبوط ہونے سے بھارت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جہاں کئی ریاستوں میں کمیونسٹ نوجوانوں کے گروپ بھارت کی مرکزی ریاست کے خلاف کئی دہائیوں سے جدوجہد کر رہےہیں اور مسلح بغاوت تک جا چکے ہیں۔
2022 کے انتخاب میں آج اتحاد کرنے والی کمیونسٹ پارٹیوں نے الگ الگ شرکت کی تو ان پارٹیوں کو تقریباً 45 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ الیکشن کے بعد ایمالے اور نیپالی کانگریس کے درمیان اتحاد ہو جانے کی وجہ سے ان کمیونسٹ پارٹیوں کی 45 نشستوں کی سیاسی اہمیت ختم ہو گئی تھی۔
نیپال میں ستمبر 2025 میں جین-زی نے کانگریس کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی۔ پولیس نے شروع میں جین-زی مظاہرین کو روکنے کے لیے گولیاں بھی چلائیں، لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔احتجاج کی خوفناک شکل کو دیکھتے ہوئے آخر میں وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
اولی کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد سوشیلا کارکی کی قیادت میں کچھ ماہ کیلئے عبوری حکومت تشکیل دی گئی ہے، اس عبوری حکومت کو 5 مارچ 2026 تک نیپال میں پارلیمنٹ کا نیا انتخاب کرانا ہے۔ کمیونسٹ پارٹیاں اسی انتخاب کی تیاریوں میں مصروف ہو گئی ہیں۔
نیپال پر سرخ پرچم لہرا نے جارہا ہے!
2017 کے نیپال کے عام انتخابات سے پہلے کمیونسٹوں کا اتحاد ہو گیا تھا، اس اتحاد کے نتیجہ میں دسمبر 2017 کے عام انتخابات میں کمیونسٹ الائنس نے تاریخی فتح حاصل کی تھی۔ اب ایک بار پھر تمام کمیونسٹ پارٹیوں کے انضمام سے بظاہر یہ یقینی دکھائی دے رہا ہے کہ نیپال کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر نیا آغاز کرنے والے کمیونسٹ چار ماہ بعد ہونے والے الیکشن میں 2017 کے الیکشن سے بھی برٓ کلین سویپ کریں گے۔

ایک طرف جہاں 8 کمیونسٹ پارٹیوں نے ایک ساتھ آنے کا فیصلہ کیا ہے، وہیں دوسری طرف اب تک جین-زی کے نام سے مشہور کئے گئے غیر منظم گروہوں کے لڑکوں نے کوئی بھی پارٹی تشکیل نہیں دی۔ پہلے کٹھمنڈو کے میئر بالیندر شاہ کے ذریعہ پارٹی بنائے جانے کی قیاس آرائیں سامنے آئی تھیں، لیکن شاہ نے اب تک کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ جین-زی تحریک میں سب سے زیادہ سرگرم شخصیات نے بھی پارٹی قائم کرنے سے متعلق کئی پیش قدمی نہیں کی ہے۔
بھارت کی اسٹیبلشمنٹ نیپال میں کامیونسٹوں کو ہمیشہ سے بھارتی مفادات کے لئے خطرناک تصور کرتی رہی ہے۔ کیونکہ کامیونسٹ جب بھی سوچتے ہیں، نیپال کے عوام کو اولیت دیتے ہوئے ریاست کے راستے متعین کرنے کی بات کرتے ہیں اور وہ بھارت کے اندر خاص طور سے نیپال سے ملحق بھارتی ریاستوں میں طویل عرصہ سے جدوجہد کرنے والے کمیونسٹ نوجوانوں سے خاس الفت رکھتے ہیں جن کو بھارت میں نکسلائیٹ اور نکسل باڑی کہا جاتا ہے اور جن کی تنظیموں کو بھارت کی مرکزی حکومت دہشتگرد قرار دیتی ہے۔ ان نوجوانوں سے بھارت کی مرکزی حکومت ہر وقت خوفزدہ رہتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ نیپال میں کوئی ایسی حکومت نہ بنے جو نئی دہلی کی اقتصادی طاقت اور نیپال کی سمندر سے دور ریاست کی طبعی دست نگری سے جنم لینے والے نو آبادیاتی غلبہ کو چیلنج کر سکے۔۔