ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چار سال قبل اغوا ہونیوالی لڑکی کی عدم بازیابی کا کیس، آئی جی پنجاب لاہور ہائیکورٹ میں پیش

چار سال قبل اغوا ہونیوالی لڑکی کی عدم بازیابی کا کیس، آئی جی پنجاب لاہور ہائیکورٹ میں پیش
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : چار سال قبل اغواء ہونے والی لڑکی کی عدم بازیابی، آئی جی پنجاب عبدالکریم افسران کے ہمراہ ہائیکورٹ پیش، عدالت نے آئی جی پنجاب کو مغوی کی بازیابی کے لیے 24 مارچ تک مہلت دے دی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سائلہ سلمیٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ آئی جی پنجاب عبد الکریم عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کے ہمراہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد، آر او، سی سی ڈی آفتاب پھلروان اور ایس پی ناصر پنجوتا بھی پیش ہوئے۔

 چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ “کیا بات ہے، سلمیٰ بی بی نہیں آ رہیں؟” اس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا آئی جی پنجاب کی جانب سے رپورٹ پیش کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ جو نکات رپورٹ میں درج کیے گئے ہیں کیا وہ نئی ضمنی رپورٹ میں بھی شامل ہیں۔؟۔
آئی جی پنجاب عبد الکریم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نئی ضمنی رپورٹ میں تمام احوال درج ہیں۔ دوران تفتیش ایک اہم سراغ ملا ہے جس پر پیش رفت جاری ہے۔ جس کے لئے مہلت کی استدعا ہے۔چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ اس سراغ پر کام مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا؟ آئی جی پنجاب نے عدالت سے2 ہفتوں کی مہلت طلب کی ۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 24 مارچ تک ملتوی کر دی ۔

Ansa Awais

Content Writer